کبھی نشیب میں تھا اور کبھی فراز میں تھا
Ehtisham Akhtar (b. 1944)کبھی نشیب میں تھا اور کبھی فراز میں تھا
یہ آبشار محبت دلوں کے راز میں تھا
مرے خلاف ہی سازش وہ کر رہے تھے مگر
عجیب بات ہے شامل میں ساز باز میں تھا
تمہیں خبر ہی نہیں اس کے حبشیو کہ کبھی
مری صدا کا فسوں بھی ہر ایک جاز میں تھا
تمام عمر میں بے گھر رہا خبر نہ ہوئی
کہ میرا گھر اسی چشم فسوں طراز میں تھا
میں اب نہ قید لکیروں میں ہوں نہ رنگوں میں
ہزار پہلے مقید میں دام آز میں تھا
زمیں پہ گر کے یکایک جو پاش پاش ہوا
تمہیں خبر ہی نہیں میں اسی جہاز میں تھا