دھوپ میں جل کر راہ ہوا ہوں
Ehtisham Akhtar (b. 1944)دھوپ میں جل کر راہ ہوا ہوں
جب بھی پیڑ سے میں ٹوٹا ہوں
بیگانوں کے دیش میں کوئی
اپنے جیسا ڈھونڈ رہا ہوں
دریا ہی میں گھر ہے میرا
پھر بھی دریا سے ڈرتا ہوں
اپنے ذہن کی تحریروں کو
دیمک بن کر چاٹ رہا ہوں
مجھ کو لے کر پچھتاؤ گے
میں تو اک کھوٹا سکہ ہوں