کبھی زمیں پہ کبھی نیلے آسمان میں ہوں

Ehtisham Akhtar (b. 1944)

کبھی زمیں پہ کبھی نیلے آسمان میں ہوں

ہوا کی طرح میں ہر پل نئے مکان میں ہوں

ترا وقار تو میرے ہی دم سے قائم ہے

میں مثل آب گہر تیری آن بان میں ہوں

لبوں سے اس کے نکل کر ہوا ہوں آوارہ

میں ایک لفظ ہوں ہر دم نئی اڑان میں ہوں

مجھے تو گہرے سمندر سے جا کے ملنا ہے

ابھی میں رک نہیں سکتا ابھی ڈھلان میں ہوں

سمجھ تو مجھ کو ذرا میری قدر کر ناداں

میں آسمانی صحیفہ تری زبان میں ہوں

مرے حصار میں تھی ساری کائنات کبھی

ستم ہے قید میں خود اپنے ہی مکان میں ہوں

اگر ہے شوق تو مجھ کو خرید لے آکر

کہ میں تو شہر ہوس کی ہر اک دکان میں ہوں