دل پہ خنجر وہ مار کر خوش ہیں

Ehtisham Akhtar (b. 1944)

دل پہ خنجر وہ مار کر خوش ہیں

اور ہم ہیں کہ ہار کر خوش ہیں

زندگی نے پلٹ کے دیکھا ہمیں

ہم بھی اس کو پکار کر خوش ہیں

دور جاتی ہوئی تمنا کا

عکس دل میں اتار کر خوش ہیں

پہلی بارش کے خوش نما بادل

رنگ گلشن نکھار کر خوش ہیں

خشک پتے ہوا کے کاندھوں پر

چند لمحے گزار کر خوش ہیں

دل کے اس ڈوبتے سفینے سے

بار الفت اتار کر خوش ہیں

غم نے مدت سے مار رکھا تھا

آج ہم غم کو مار کر خوش ہیں