مٹی کے برتن میں

Ehtisham Akhtar (b. 1944)

مٹی کے برتن میں

رکھی ہوئی خواہشیں

سڑ گئیں

اب اس برتن کو پھینک دو

کمرے میں چاند سورج

سجانے کا پاگل پن چھوڑ دو

صبح و شام میں فرق کرنا چھوڑ دو

شیشے کو پتھر پر توڑ دو

کیکٹس محبت کا مرض کی طرح بڑھتا ہے

اسے روکو

اپنے احساس کو آٹے کی طرح

کیوں گوندھ رہے ہو

اتنا نہ دیکھو

کہ آنکھیں پتھرا جائیں

اتنا نہ سوچو

کہ دماغ ماؤف ہو جائے