باغ کے ایک گوشے میں لیٹے ہوئے

Ehtisham Akhtar (b. 1944)

باغ کے ایک گوشے میں لیٹے ہوئے

اس بوڑھے کو کیا خبر

کہ اس کی بنائی ہوئی عمارت

کتنی بدل گئی ہے

اس کی دیواریں

کتنی خود سر ہو گئی ہیں

اس کی کھڑکیاں

کتنی بے پردہ ہو گئی ہیں

اس عمارت میں رکھی ہوئی کرسیاں

کتنی مغرور ہو گئی ہیں

اور کرسیوں کے قصے

گرد و نواح میں

مشہور ہو گئے ہیں

باغ کی ایک چھوٹی سی قبر میں لیٹے ہوئے

اس بوڑھے کو کیا معلوم

کہ اس کے گھر میں جنگ چھڑی ہوئی ہے

مونچھیں اور داڑھیاں

باہمی جنگ میں مصروف ہیں

برقعے اور ساڑیاں آپس میں لڑ رہی ہیں

وہ بوڑھا

بے خبر سو رہا ہے

لیکن جنگ کا شور

اسے نیند سے جگا دے گا

اسے قبر سے نکال کر

باہر پھینک دے گا