مجھے حیات کے سانچوں میں ڈھالنے والے
Ehtisham Akhtar (b. 1944)مجھے حیات کے سانچوں میں ڈھالنے والے
کہاں گئے وہ سمندر کھنگالنے والے
لڑھک رہا ہوں ڈھلانوں سے پیار کی میں تو
نہ آئیں راہ میں مجھ کو سنبھالنے والے
ہمارے شوق فراواں نے ڈس لیا ہم کو
کہ آستیں میں تھے ہم سانپ پالنے والے
ہوا میں پھینک نہ مجھ کو سمجھ کے کھیل کوئی
تجھی کو آ کے لگوں گا اچھالنے والے
ذرا سا کام ہوں میں پھر بھی نامکمل ہوں
یہاں ملے ہیں سبھی مجھ کو ٹالنے والے
کنواں ہوس کا تھا گہرا کچھ اس قدر اخترؔ
کہ خود ہی گر گئے مجھ کو نکالنے والے