بند اٹیچی میں
Ehtisham Akhtar (b. 1944)بند اٹیچی میں
پڑا ہوا مل جاتا ہے
پرانے کوٹ کی جیب میں
ہاتھ ڈالتے ہی باہر آ جاتا ہے
پرانی فائیلوں سے جھانکتا ہے
شہر کی سڑکوں پر چلتے ہوئے
اجنبی ہونٹوں پر رقص کرتا ہے
آئینے کے سامنے آتے ہی
نظر آتا ہے
وہ میری آنکھوں میں چمکتا ہے
اب بھی میرے سینے میں
دھڑکتا ہے
میں اس کا وجود مٹا نہیں سکتا
میں اسے بھلا نہیں سکتا