خیال و خواب کے پیکر بدلتے رہتے ہیں

Ehtisham Akhtar (b. 1944)

خیال و خواب کے پیکر بدلتے رہتے ہیں

ہم اپنی آگ میں ہر دم پگھلتے رہتے ہیں

ہمیں ہے ناز کہ ہم ہیں پہاڑ کی مانند

ہماری آنکھوں سے چشمے ابلتے رہتے ہیں

تمہارے واسطے یہ چیز ہے نئی ورنہ

یہاں پہ سانپ تو اکثر نکلتے رہتے ہیں

بلندیوں میں جو اڑتے ہیں ان کو کیا معلوم

گھنے بنوں کی ہیں ہم آگ جلتے رہتے ہیں

تم اپنے جسم کے ملبوس کو بچائے رکھو

غلیظ پانی ہیں ہم تو اچھلتے رہتے ہیں

ہمارے ساتھ کہاں تک چلو گے ضد نہ کرو

کہ راستوں کی طرح ہم تو چلتے رہتے ہیں

بدلتی رت کی طرح ان کے پیار میں ہم بھی

خود اپنی شکل کو ہر دم بدلتے رہتے ہیں