نہ دم باقی ہے آنکھوں میں نہ دل میں جان باقی ہے

Tabeeb Arvi

نہ دم باقی ہے آنکھوں میں نہ دل میں جان باقی ہے

مگر دونوں میں تیری دید کا ارمان باقی ہے

ہوئی حاصل سبکدوشی نہ قاتل سر کٹانے سے

کہ گردن پر مری شمشیر کا احسان باقی ہے

نہ رک جانا اڑا کر دھجیاں میرے گریباں کی

ابھی دست جنوں اس شوخ کا دامان باقی ہے

دھواں بھی قبر سے اٹھا تو بل کھاتا ہوا اٹھا

تری خم دار زلفوں کا جو اب تک دھیان باقی ہے

تمہارے روئے روشن سے ہے بزم حسن کی رونق

مرے دم سے جہاں میں عاشقی کی شان باقی ہے

دم مردن وہ آیا بھی تو آیا ساتھ غیروں کے

ستم گر کے کرم میں بھی ستم کی شان باقی ہے

پئے تسبیح پر گن گن کے ساغر آج واعظ نے

بوقت مے کشی بھی زہد کی اک شان باقی ہے

جو کاٹا تو نے میرا سر گرا تیرے ہی قدموں پر

ترے شیدا میں مر کر بھی وفا کی شان باقی ہے

تمنا آرزو ارمان سب تو ہو چکے رخصت

دل ویراں میں بس اک یاس اب مہمان باقی ہے

میرا سر کاٹ کر بولا وہ بسمل دیکھ کر مجھ کو

تڑپتے کیوں ہو کیا کچھ اور بھی ارمان باقی ہے

اگی نرگس جو تربت پر تو کس شوخی سے وہ بولے

ابھی تک گھورنے کا آپ کو ارمان باقی ہے

عبث تم روندتے ہو میری تربت خاک ہونے پر

اب اس میں استخواں تک بھی نہیں اے جان باقی ہے

فلک پر روح گر پہونچی تو تن زیر زمیں پہونچا

تلاش یار کا اب کون سا عنوان باقی ہے