راہ جو چلنی ہے اس میں خوبیاں کوئی نہیں

Urmila Madhav

راہ جو چلنی ہے اس میں خوبیاں کوئی نہیں

روح اپنی چھوڑ کے وقت گراں کوئی نہیں

دہر ہے جلتا ہوا اور پتھروں کے آدمی

چلچلاتی دھوپ ہے اور آشیاں کوئی نہیں

اور کتنا آزمانا جو ہوا وہ خوب ہے

تم وہی ہو ہم وہی راز نہاں کوئی نہیں

ہے نیا کچھ بھی نہیں کیوں اس قدر حیراں ہوئے

ساتھ چلنے کو تمہارے اے میاں کوئی نہیں

سامنے مقتل ہوا لو فکر سے خارج ہوئے

بس یہی رستہ ہے جس کے درمیاں کوئی نہیں