کس طرح بھولے ترے الفاظ بے جا کیا کروں
Urmila Madhavکس طرح بھولے ترے الفاظ بے جا کیا کروں
وحشتیں یا حسرتیں جو بھی ہیں لے جا کیا کروں
دل ہتھیلی پہ رکھا اور ساتھ میں اک خط دیا
کچھ نہیں باقی بچا ہے کیوں یہ بھیجا کیا کروں
ہر گھڑی ہلکان رہنا اور نہ سونا رات بھر
اور جو تنہائی دی تھی وہ بھی ہے جا کیا کروں
کب تلک چل پائے گی یہ ایک طرفہ زیادتی
میں بھی جانوں ہوں تغافل جا کہے جا کیا کروں
مجھ کو سننا ہی نہیں ہے تلخیوں کا فلسفہ
عمر بھر تو میں نے تنہا غم سہیجا کیا کروں