قدموں کے نشاں سب ماند پڑے جو سنگ میل تھا ٹوٹ گیا
Zafar Adeemقدموں کے نشاں سب ماند پڑے جو سنگ میل تھا ٹوٹ گیا
کچھ منزل مجھ سے چھوٹ گئی کچھ منزل سے میں چھوٹ گیا
چہرے کی معصومی تھی یا جلووں کا رعب تھا ہیبت تھی
بیٹھے تھے روپ سنگار کو وہ اور آئنہ گر کر ٹوٹ گیا
اب آپ اکیلے شہر میں ہیں کیا مجھ سے پاگل لوگ نہیں
اک میری قسمت پھوٹی تھی کیا سب کا مقدر پھوٹ گیا
تاریکی پھیلنے والی ہے سورج کو سنبھال کے رکھیے گا
دیوار پہ سائے بکھرے ہیں جو دھوپ کا رنگ تھا چھوٹ گیا
اس حسن و شباب پہ جتنا بھی ہو ناز و غرور ہے کم لیکن
سب جھوٹے تھے کب سچ بولے کچھ میں بھی کہہ کر جھوٹ گیا
رہبر تو نہ تھا رہزن بھی نہ تھا کیا اس کے تعارف میں بولوں
یا بے سر و ساماں میں ہی تھا یا جو کچھ تھا وہ لوٹ گیا
اک گندمی رنگ کا چہرہ تھا اور پھول شگوفہ لگتا تھا
پلکوں کو عدیمؔ وہ ٹھیس لگی گلدستہ خواب کا ٹوٹ گیا