تمہاری تیغ نگاہ معجز نما نے بے موت جس کو مارا
Tabeeb Arviتمہاری تیغ نگاہ معجز نما نے بے موت جس کو مارا
تو پاسبانی میں اس شہید وفا کی آکر اجل رہی ہے
کسی کی جٹی بھنویں ہیں یا رب کہ ذوالفقار علی کے نقشے
جو بیت لکھی صفت میں اس کی ہمیشہ ضرب المثل رہی ہے
یہ رنگ ہے عشق جاں گزا کا لہو کے ریزے نہ ان کو جانو
یہ قاش دل ہے جو آنسوؤں میں پگھل پگھل کر نکل رہی ہے
زبان جلتی ہے کیا بتاؤں میں سوز الفت کا حال ناصح
دل و جگر کیا کہ شمع آسا رگ گلو اب تو جل رہی ہے
نہیں ہے گو مجھ کو مشق اصلاً مگر میں فیض ازل کے قرباں
مشاعرے میں طبیبؔ خوش گو ہمیشہ اپنی غزل رہی ہے