ڈھونڈیئے اس شہر میں اب کس کو حاصل کون ہے

Urmila Madhav

ڈھونڈیئے اس شہر میں اب کس کو حاصل کون ہے

اور ذرا بتلائیے کس کے مقابل کون ہے

میں نے میزانوں سے پوچھا طاق پر رکھ کر ضمیر

اپنی ان بربادیوں میں اور شامل کون ہے

خود حوالے کر کے جس نے کشتیاں طوفان میں

بادباں سے جا کے پوچھا میرا ساحل کون ہے

یہ نسیم و خار و خس کس نے جلایا آگ میں

آبشاروں نے یہ سوچا اتنا جاہل کون ہے

برف کا سینہ پگھل کر ایک دریا ہو گیا

کون ٹھہرا تھا یہاں پر اتنا مائل کون ہے