جگر تھامے ہوئے یاں طالب دیدار بیٹھے ہیں
عزیز الرحمٰن عزیز پانی پتیجگر تھامے ہوئے یاں طالب دیدار بیٹھے ہیں
مزے واں لوٹنے کو بزم میں اغیار بیٹھے ہیں
فقط اتنا کہا تھا تم ذرا صورت دکھا جاؤ
یہ سن کر آج مجھ سے وہ بہت بیزار بیٹھے ہیں
محبت ان سے کیا کی لے لیا کوہ الم سر پر
مجھے بدنام کرنے کو سر بازار بیٹھے ہیں
ذرا مقتل میں تم آ کر نکالو اپنے خنجر کو
یہاں ہم قتل ہونے کے لئے تیار بیٹھے ہیں
چلا تو ہے عزیزؔ ان کی گلی میں شوق سے لیکن
قدم رکھنا سنبھل کر وہ بنے عیار بیٹھے ہیں