رنج و غم و فراق میں جو مبتلا نہیں
عزیز الرحمٰن عزیز پانی پتیرنج و غم و فراق میں جو مبتلا نہیں
دنیا میں اس کی زیست کا کچھ بھی مزا نہیں
لے لو قسم کہ ہم نے تمہارے سوا صنم
اس نقد دل کو اور کسی کو دیا نہیں
اے دل بتوں کے عشق نے برباد کر دیا
ورنہ جہاں میں ہم سا کوئی با وفا نہیں
بالکل درست یہ کہ بتوں میں وفا کہاں
ان سے تو دل لگانے کا کچھ بھی مزا نہیں
پائی سزا خراب ہوئے عشق کیوں کیا
یہ سب خطا ہے دل کی ہماری خطا نہیں
دم لاکھ اس کے عشق کا بھرتے رہے مگر
پھر بھی کسی کا وہ کبھی دل آشنا نہیں
انصاف میرا اور ترا ہوگا ایک دن
وہ کون سا ستم ہے جو مجھ پر کیا نہیں
معشوق پر جفا سے میں ناچار ہو گیا
اس غم سے چھوٹتا مگر آتی قضا نہیں
آہ و فغاں سے فائدہ کچھ بھی نہیں عزیزؔ
یہ بت ہیں سنگ دل انہیں خوف خدا نہیں