جو سر پر ہے شجر میرا نہیں ہے
Tahira Jabeenجو سر پر ہے شجر میرا نہیں ہے
مکیں ہوں اور گھر میرا نہیں ہے
کسی کا ہے مگر میرا بھی ہے وہ
جو میرا ہے مگر میرا نہیں ہے
مقرر جس طرف منزل ہے میری
اسی جانب سفر میرا نہیں ہے
ہوں لب بستہ کہ تو مجرم نہ ٹھہرے
میری جاں یہ مفر میرا نہیں ہے
پکاروں کیا اسے گر ہے وہ میرا
نہ لوٹے گا اگر میرا نہیں ہے