جانے کس کس نے ہمیں تاکید کی

Urmila Madhav

جانے کس کس نے ہمیں تاکید کی

کیوں نہیں دیکھی چمک خورشید کی

جبکہ احساس رقابت ہو گیا

کس سے تب امید ہو تائید کی

سب چمک سے ہی اگر منسوب تھا

سب سے بہتر تھی چمک ناہید کی

خوب صورت زندگی نیرنگ ہے

ہم نے کب اس سے کوئی امید کی

جب تغافل کا ارادہ کر لیا

کون کرتا فکر خیر و دید کی