اپنے حصے کی زمیں بھی چاہیے

Tahira Jabeen

اپنے حصے کی زمیں بھی چاہیے

دل مکاں کو اک مکیں بھی چاہیے

لڑکے والوں کی طلب تو دیکھیے

لڑکی افسر بھی حسیں بھی چاہیے

اس کی باتیں یاد کرتے ہیں چلو

شام غم کچھ دل نشیں بھی چاہیے

اس کی ہر دم ہاں گھمنڈی کر گئی

اس کے منہ سے اک نہیں بھی چاہیے

دم کرائے کے مکانوں میں گھٹے

گھر ہو کیسا بھی کہیں بھی چاہیے

ہم نہ ہوں تو تم بھی بے معنی رہو

آستانے کو جبیں بھی چاہیے

شعر تو کچھ طاہرہؔ نے کہہ دئے

لیکن اس کو آفریں بھی چاہیے