رفتہ رفتہ دل پر اس کافر کا قبضہ ہو گیا

Tabeeb Arvi

رفتہ رفتہ دل پر اس کافر کا قبضہ ہو گیا

دیکھتے ہی دیکھتے کعبہ کلیسا ہو گیا

کشتۂ انداز کی تربت کو ٹھکرا کر کہا

حوصلہ اب تو شہید ناز پورا ہو گیا

ہے بجا اترے جو گردوں سے بلاؤں پر بلا

دل اسیر حلقۂ زلف چلیپا ہو گیا

کیوں نہ دیں اہل بصیرت دل کو آنکھوں میں جگہ

گردش چشم تونگر سے یہ سرمہ ہو گیا

کیا کرے گا اور دست ناامیدی میرے ساتھ

ٹکڑے ٹکڑے اب تو دامان تمنا ہو گیا

وائے قسمت یاد کب آیا نشان کوئے دوست

قاصد گم کردہ منزل جب روانہ ہو گیا

حال دل کیا پوچھتے ہو میری صورت دیکھ لو

آشنا نا آشنا ہیں یہ تو نقشہ ہو گیا

اف رے ظالم آج تک نکلا نہ کوئی حوصلہ

دل ہی زخمی ہو گیا چھلنی کلیجہ ہو گیا

پائے نازک میں وہاں اس شوخ نے ہلدی ملی

اور شب وعدہ یہاں خون تمنا ہو گیا

باندھ کر تار نظر میں لائے مضمون کمر

غل پڑا ملک سخن میں صید عنقا ہو گیا

زلف بکھرائے ہوئے قاتل ہے زیب بام آج

دل کی بربادی کا کل سامان پورا ہو گیا

خلوت دل میں نظر آنے لگا وہ بحر حسن

اس قدر پھیلا ہے یہ قطرہ کہ دریا ہو گیا

چشم اہل شوق رہتی ہے اسی جانب طبیبؔ

حسن اس خورشید پیکر کا تماشا ہو گیا