گھنیرا لہجہ وہ حسن کا تھا

Zafar Adeem

گھنیرا لہجہ وہ حسن کا تھا

کھلی زباں وہ جمال کی تھی

وجود میں فکر و فن تھا شامل

عدم میں شرکت خیال کی تھی

جدید بندش زباں کی سج دھج

اسے امر کر گئی ادب میں

وہ جستجو وہ تلاش اس کی

سمو کے لفظوں میں موج دریا

صدف صدف دھارے توڑتی تھی

خلا سے لا کر خیالی پیکر

زمیں سے سیارے توڑتی تھی

وہ شاعر ذات شش جہت تھی

زمین اور آسماں سے گزری

علامتوں میں وہ جی رہی تھی

وہ استعاروں میں جاں سے گزری