میں کیا مثال دوں کوئی تری مثال کے بعد
Tahira Jabeenمیں کیا مثال دوں کوئی تری مثال کے بعد
نہیں جمال کوئی بھی ترے جمال کے بعد
عطا ہوئی وہ بلندی مرے تخیل کو
خیال ہیچ ہوئے سب ترے خیال کے بعد
یہ تیرے نام کا صدقہ ہے صاحب معراج
عروج مجھ کو ملا ہے جو ہر زوال کے بعد
بتایا حلیہ مبارک جو ام معبد نے
حسیں لگا نہ کوئی ایسے خد و خال کے بعد
نہ لوٹا آپؐ کے در سے کوئی تہی دامن
نہ ٹوٹا مان کسی کا بیان حال کے بعد
نہیں ہے رنج کوئی جو خوشی میں ڈھل نہ گیا
درود میں نے پڑھا جب کسی ملال کے بعد
کنیز آل محمد اگر میں کہلاؤں
وصال ان سے ہی ہوگا مرا وصال کے بعد
ہے طاہرہؔ یہ تمنا دل و نگاہ کی اب
مدینے جاؤں ہمیشہ ہر ایک سال کے بعد