پسند آئیں مجھ کو ادائیں تمہاری
عزیز الرحمٰن عزیز پانی پتیپسند آئیں مجھ کو ادائیں تمہاری
یہی دل میں ہے لوں بلائیں تمہاری
کہا وصل کو جب تو بولے وہ ہنس کر
ہیں حد سے زیادہ خطائیں تمہاری
جلا کر کیا خاک سوز الم نے
کہاں تک اٹھاؤں جفائیں تمہاری
رہیں گی سدا یادگار زمانہ
وفائیں ہماری جفائیں تمہاری
شکایت نہ کرنا عزیزؔ ان کی ہرگز
کہ شاید وہ بگڑی بنائیں تمہاری