نہ ٹھہرا دل مرا غم کھانے والا
Tabeeb Arviنہ ٹھہرا دل مرا غم کھانے والا
گیا دنیا سے آخر جانے والا
نصیب غیر ہی تیری بقا ہے
ارے او بے وفا ترسانے والا
دل دشمن شگفتہ وصل کی شب
مرا دل داغ فرقت کھانے والا
مصیبت میری کیا روشن ہو اس پر
خبر بھی ہو کوئی لے جانے والا
شگفتہ ہو جو دل وصل بتاں میں
شب فرقت وہ ہے مرجھانے والا
بجا ہے ذکر ہے واعظ کے لب پر
مرا وہ دوست ہے میخانے والا
یہی دل ہے جو شیدائے مژہ ہے
نشانے پر ترے چڑھ جانے والا
رخ و گیسو ہیں دونوں حسن آرا
یہ اہل آئنہ وہ شانے والا
خیال موئے مژگاں چین کیا دے
یہی نشتر تو ہے تڑپانے والا
میں نقش پا ہوں مٹ کر بھی رہوں گا
ترے در سے نہیں اٹھ جانے والا
خیال غیر اور فرقت کا عالم
فرشتہ موت کا ہے آنے والا
مرا ہی سر فقط ہے وقف سوگند
ارے او جھوٹی قسمیں کھانے والا
طبیبؔ خستہ جاں ہوں میں ہی اے جاں
تمہارے نام پر مر جانے والا