خود کے احساس محبت نے مجھے زندہ رکھا
Urmila Madhavخود کے احساس محبت نے مجھے زندہ رکھا
میرے کچھ نیک خیالات نے تابندہ رکھا
مجھ کو مشکل ہی گزرتی ہے شناسائی سے
کیونکہ اے دوستو تم نے مجھے شرمندہ رکھا
سہل دل ہوں تو مجھے آپ ہی چلنا ہے محض
اپنے معیار کو سو خود سے ہی پائندہ رکھا
دل لگی کرتی رہی خاک محبت مجھ سے
زندگی میں نے تجھے ریت کا باشندہ رکھا
کتنے رنگوں سے مری سانس کے کس بل تولے
پھر بھی جی بھٹکے نہیں دھیان یہ آئندہ رکھا