یہی کاغذ یہی قلم ہوگا

Sabiha Khan

یہی کاغذ یہی قلم ہوگا

روز اک واقعہ رقم ہوگا

ابھی بھیگیں گی اور بھی پلکیں

ابھی آنچل کچھ اور نم ہوگا

میری حالت اسے نہ بتلانا

وہ سنے گا تو اس کو غم ہوگا

میرے خوابوں کا میری آنکھوں میں

کیا وجود اور کیا عدم ہوگا

اس سے ملنا بہت ضروری ہے

درد کچھ تو صبیحہؔ کم ہوگا