تو ہی بتا دے جمال معنی ترا کریں انتظار کب تک

Ehsas Muradabadi

تو ہی بتا دے جمال معنی ترا کریں انتظار کب تک

حیات کا اعتبار ہو بھی نگاہ کا اعتبار کب تک

جہان ظلم و جفا کے مالک کوئی نہ ہو اشک بار کب تک

جو دل ہی مجبور ہو چکا ہو تو آنکھ پر اختیار کب تک

ملیں گے دامن سے آ کے آخر مرے گریباں کے تار کب تک

کوئی بتائے کہ ہو سکے گا مرا جنوں پختہ کار کب تک

جو کی کسی نے بھی پرشش غم تو چشم مجبور ہو گئی نم

مگر دل ضبط آزما کے بیان میں اختصار کب تک

وہ باد‌ صر‌صر کی بے قراری وہ بجلیاں اور وہ شعلہ باری

بس اب قفس ہی میں مطمئن ہوں نظر کو شوق بہار کب تک

خزاں کے بے کیف دور کا بھی مرے گریباں یہ کچھ تو حق ہے

جنوں کو آخر بنائے رکھوں نیاز مند بہار کب تک

قدم قدم پر صنم کدہ ہے نظر نظر میں حرم کا منظر

تجلیاں ہی تو ہیں یہ آخر بقید دیدار یار کب تک