زندگی اور گھر کا نقشہ ایک جیسا ہو رہا ہے

Ehsanul Haq Mazhar

زندگی اور گھر کا نقشہ ایک جیسا ہو رہا ہے

کمرے بڑھتے جا رہے ہیں صحن چھوٹا ہو رہا ہے

غم نے ہم کو آ لیا تو اتنی حیرت کیوں ہے دل کو

میں نے پہلے کہہ دیا تھا اپنا پیچھا ہو رہا ہے

لوگ مرتے جا رہے ہیں دو طرف سے اور افسوس

زندگی کے نام پر یہ سارا جھگڑا ہو رہا ہے

عشق ایسا مختلف بھی تجربہ مظہرؔ نہیں ہے

خواب دیکھے جا رہے ہیں کام دھندا ہو رہا ہے