چین پڑتا نہیں ہے سونے میں
Ehsas Muradabadiچین پڑتا نہیں ہے سونے میں
سوئیاں تو نہیں بچھونے میں
چہرہ اشکوں سے یوں بھگونے میں
کیا سکوں مل رہا ہے رونے میں
اک نظر کا سوال ہوتا ہے
اختلافات ختم ہونے میں
آپ عشرت پسند کیا جانیں
وہ جو لذت ہے زخم دھونے میں
کون پودے صداقتوں کے لگائے
دن لگیں گے درخت ہونے میں
ایک مجبور کی ہنسی دیکھی
فرق کیا رہ گیا تھا رونے میں
کچھ تو ہے قدر مشترک احساسؔ
ان کو ہنسنے میں میرے رونے میں