اس لئے تیز بھاگتا ہوں میں

Ehsanul Haq Mazhar

اس لئے تیز بھاگتا ہوں میں

اپنے پیچھے پڑا ہوا ہوں میں

گھپ اندھیرے میں روشنی کی طرح

اس کی آنکھوں سے گر رہا ہوں میں

مجھ کو غم تو نہیں جدائی کا

یہ مروت میں رو رہا ہوں میں

یاد کرنا بھی اس کو چھوڑ دیا

آخری چال چل چکا ہوں میں

میری باتیں مذاق میں مت لے

زندگی تجھ سے کچھ بڑا ہوں میں

مجھ سے وہ صلح کرنے والا تھا

اور ناراض ہو گیا ہوں میں

دشت اس بات پر بہت خوش ہے

اس کے حصے میں آ گیا ہوں میں

باتیں ہونے لگی ہیں میرے خلاف

یعنی محفل سے جا چکا ہوں میں