جو تھکاوٹ پہ مبنی نیند نہیں
Ehsanul Haq Mazharجو تھکاوٹ پہ مبنی نیند نہیں
میں سمجھتا ہوں اچھی نیند نہیں
آدھی بستی کو جاگنا ہوگا
جتنی آنکھیں ہیں اتنی نیند نہیں
موت سے کیوں ڈرا رہے ہو مجھے
یہ کوئی میری پہلی نیند نہیں
آنکھیں اچھی ہیں اس ستارے پر
اس ستارے پہ اچھی نیند نہیں
ایک دن اس نے کہہ دیا مجھ سے
میں تمہاری ہوں میری نیند نہیں
اس کے چہرے کو پڑھ کے سوتا ہوں
مجھ سے اچھی کسی کی نیند نہیں
خواب کتنے ہی دیکھنے ہیں ابھی
اور آنکھوں میں رتی نیند نہیں