ہاں مجھے گوارا ہے عشق کا سفر تنہا

Ehsas Muradabadi

ہاں مجھے گوارا ہے عشق کا سفر تنہا

اس نے مجھ کو چھوڑا ہے کچھ تو سوچ کر تنہا

زیست ہے مگر سونی عشق ہے مگر تنہا

چشم سربسر ویراں قلب سربسر تنہا

وہ جمال کی تابش جیسے نور کی بارش

حسن یار کی یورش اور مری نظر تنہا

دل کی ایک اک حسرت چھوڑ کر ہوئی رخصت

ہائے رے یہ سناٹا ہائے رے یہ گھر تنہا

کیا قیامتیں یارو حسن کے جلو میں تھیں

ہم نے دور تک دیکھا عشق تھا مگر تنہا

ٹھوکریں ہی کھاؤں گا گر کے اٹھ نہ پاؤں گا

منزل محبت میں میں چلا اگر تنہا

دامن محبت پر دل کا خون بھی ہوگا

تیرا غم منائے گی کیسے چشم تر تنہا