یہ جو لگتا ہے ضرورت سے بھی کم بولتے ہیں
Ehsanul Haq Mazharیہ جو لگتا ہے ضرورت سے بھی کم بولتے ہیں
ہم کو وہ شخص بلاتا ہے تو ہم بولتے ہیں
کون ہستی کا گزر میرے خرابے سے ہوا
کس تفاخر سے یہاں نقش قدم بولتے ہیں
دونوں جانب وہ انا تھی کہ یہ نوبت آئی
اب ہمیں یار بلاتے ہیں نہ ہم بولتے ہیں
یہ جو ہر بات پہ کر دیتے ہیں تقریر شروع
ہم تو سنتے تھے کبھی ان کے قلم بولتے ہیں
ایسی بستی کی زباں خاک میں سمجھوں گا جہاں
لوگ خاموش ہیں دینار و درم بولتے ہیں