نگاہ عاصی کی روز محشر امین رحمت کو تک رہی ہے

Tahavvur Ali Zaidi

نگاہ عاصی کی روز محشر امین رحمت کو تک رہی ہے

عجیب عالم ہے بیکسی کا نظر سے حسرت ٹپک رہی ہے

مری نظر فکر معصیت سے رہین غم آج تک رہی ہے

تمہی سے وابستہ ہیں امیدیں تمہاری صورت کو تک رہی ہے

مجھے ہو کیا خوف روز محشر کہ زیر دامان مصطفیٰ ہوں

خدا کی رحمت سے میری دنیا مہک رہی ہے لہک رہی ہے

فرشتے کیسے ازل میں ہر شے تمہاری عظمت کو جھک گئی تھی

نگاہ ابلیس میں ابھی تک وہی تو عظمت کھٹک رہی ہے

خلیل کی جرأتوں کو سمجھو شرار نمرود کو نہ دیکھو

جنوں نے منزل کو پا لیا ہے خرد ابھی تک بھٹک رہی ہے

تمہارے لطف و کرم کا صدقہ ہے دونوں عالم میں کار فرما

چمن چمن کھل رہی ہیں کلیاں فضائے عالم مہک رہی ہے

نوید اے تشنگان بادہ ہے جوش پر اب کرم کا دریا

کہ چشم ساقی سے روح کوثر ابل رہی ہے جھلک رہی ہے

وہ دھر کے آیا ہے ابر رحمت گناہ گاروں کے سر پہ زیدیؔ

دریچے جنت کے کھل گئے ہیں سر اپنا ظلمت پٹک رہی ہے