غم سے جب فیضیاب ہوتا ہے
Tahavvur Ali Zaidiغم سے جب فیضیاب ہوتا ہے
دل بشکل رباب ہوتا ہے
عشق جب ہم رکاب ہوتا ہے
ہر قدم کامیاب ہوتا ہے
دیدۂ شوق کیوں ہے محو جمال
حسن مثل سراب ہوتا ہے
لے چلا تو ہے ان کی بزم میں دل
دیکھیے باریاب ہوتا ہے
کتنے ہی وہ قریب ہوں زیدیؔ
اجتناب اجتناب ہوتا ہے