جو تمہارے کان میں پھونکا گیا تھا
Veneet Rajaجو تمہارے کان میں پھونکا گیا تھا
وہ تمہارا نام کب تھا
وہ تو حسن عیب ہے
جو اس کو اس سے جدا کرتا ہے
آؤ سارے اسم فرضی بھول جائیں
اور یہ بھی بھول جائیں ہم کہ کچھ بھولے ہوئے ہیں
یاد بھی ایک بوجھ ہے
اس قدر لمبے سفر میں