Poetry
Poet
Meter
- غنچۂ دل کھلے جو چاہو تمگلشن دہر میں صبا ہو تمواجد علی شاہ
- کبھی لطف زبان خوش بیاں تھےزمین شعر کے ہم آسماں تھےواجد علی شاہ
- گرمیاں شوخیاں کس شان سے ہم دیکھتے ہیںکیا ہی نادانیاں نادان سے ہم دیکھتے ہیںواجد علی شاہ
- لبالب کر دے اے ساقی ہے خالی میرا پیمانہسلامت دور گردوں تک یہ شیشہ اور یہ مے خانہواجد علی شاہ
- لجیائی سے نازک ہے اے جان بدن تیرااب چھو نہیں سکتے ہم پھولا یہ چمن تیراواجد علی شاہ
- محبت سے بندہ بنا لیجئے گابتا دیجیے کیا خدا لیجئے گاواجد علی شاہ
- نایاب ہے سکون دل بے قرار میںبسمل کی ہے تڑپ مرے کنج مزار میںواجد علی شاہ
- یاد میں اپنے یار جانی کیہم نے مر مر کے زندگانی کیواجد علی شاہ
- بتو خدا سے ڈرو سنگ دل سوا نہ کرویہ موم دل ہے ہمارا اسے جدا نہ کروواجد علی شاہ
- پڑا ہے پاؤں میں اب سلسلہ محبت کابرا ہمارا ہوا ہو بھلا محبت کاواجد علی شاہ
- زہرہ سہیل شمس خور بدر بہا تو کون ہےہوش ربا ستم گر مہ لقا تو کون ہےواجد علی شاہ
- سن رکھو اسے دل کا لگانا نہیں اچھادنیا یہ بری ہے یہ زمانہ نہیں اچھاواجد علی شاہ
- پوچھتا کون ہے ڈرتا ہے تو اے یار عبثقتل کرنے سے مرے ہے تجھے انکار عبثبیاں احسن اللہ خان
- تیرا ستم جو مجھ سے گدا نے سہا سہاتو بادشہ ہے جو مجھے تو نے کہا کہابیاں احسن اللہ خان
- تیغ چڑھ اس کی سان پر آئیدیکھیں کس کس کی جان پر آئیبیاں احسن اللہ خان
- جادو تھی سحر تھی بلا تھیظالم یہ تری نگاہ کیا تھیبیاں احسن اللہ خان
- جا کہے کوئے یار میں کوئیمر گیا انتظار میں کوئیبیاں احسن اللہ خان
- جو زمیں پر فراغ رکھتے ہیںآسماں پر دماغ رکھتے ہیںبیاں احسن اللہ خان
- دل اب اس دل شکن کے پاس کہاںچیل کے گھونسلے میں ماس کہاںبیاں احسن اللہ خان
- رات اس تنک مزاج سے کچھ بات بڑھ گئیوہ روٹھ کر گیا تو غضب رات بڑھ گئیبیاں احسن اللہ خان
- زلف تیری نے پریشاں کیا اے یار مجھےتیری آنکھوں نے کیا آپ سا بیمار مجھےبیاں احسن اللہ خان
- شکوہ اپنے طالعوں کی نارسائی کا کروںیا گلہ اے شوخ تیری بے وفائی کا کروںبیاں احسن اللہ خان
- فرہاد کس امید پہ لاتا ہے جوئے شیرواں خون کی ہوس ہے نہیں آرزوئے شیربیاں احسن اللہ خان
- کوئی سمجھائیو یارو مرا محبوب جاتا ہےمرا مقصود جاتا ہے مرا مطلوب جاتا ہےبیاں احسن اللہ خان
- کوئی کسی کا کہیں آشنا نہیں دیکھاسوائے اس کے ان آنکھوں نے کیا نہیں دیکھابیاں احسن اللہ خان
- کہا اغیار کا حق میں مرے منظور مت کیجومجھے نزدیک سے اپنے کبھو تو دور مت کیجوبیاں احسن اللہ خان
- کہتا ہے کون ہجر مجھے صبح و شام ہوپر وصل میں بھی لطف نہیں جو مدام ہوبیاں احسن اللہ خان
- لے کے دل اس شوخ نے اک داغ سینے پر دیاجو لیا اس کا عوض اس سے مجھے بہتر دیابیاں احسن اللہ خان
- مت ستا مجھ کو آن آن عزیزٹک کہا بھی کسی کا مان عزیزبیاں احسن اللہ خان
- میں ترے ڈر سے رو نہیں سکتاگرد غم دل سے دھو نہیں سکتابیاں احسن اللہ خان
- نہ فقط یار بن شراب ہے تلخعیش و آرام و خورد و خواب ہے تلخبیاں احسن اللہ خان
- یا رب نہ ہند ہی میں یہ ماٹی خراب ہوجا کر نجف میں خاک در بو تراب ہوبیاں احسن اللہ خان
- یہ آرزو ہے کہ وہ نامہ بر سے لے کاغذبلا سے پھاڑ کے پھر ہاتھ میں نہ لے کاغذبیاں احسن اللہ خان
- یہ خوب رو نہ چھری نے کٹار رکھتے ہیںنگاہ لطف سے عالم کو مار رکھتے ہیںبیاں احسن اللہ خان
- عشوہ ہے ناز ہے غمزہ ہے ادا ہے کیا ہےقہر ہے سحر ہے جادو ہے بلا ہے کیا ہےبیاں احسن اللہ خان
- اے بے خبری جی کا یہ کیا حال ہے کل سےرونے میں مزا ہے نہ بہلتا ہے غزل سےیوسف ظفر
- بے طلب ایک قدم گھر سے نہ باہر جاؤںورنہ میں پھاند کے ہی سات سمندر جاؤںیوسف ظفر
- پانی کو آگ کہہ کے مکر جانا چاہئےپلکوں پہ اشک بن کے ٹھہر جانا چاہئےیوسف ظفر
- پکارتا ہوں کہ تم حاصل تمنا ہواگرچہ میری صدا بھی صدا بہ صحرا ہویوسف ظفر
- تعمیر زندگی کو نمایاں کیا گیاتخریب کائنات کا ساماں کیا گیایوسف ظفر
- جس کا بدن ہے خوشبو جیسا جس کی چال صبا سی ہےاس کو دھیان میں لاؤں کیسے وہ سپنوں کا باسی ہےیوسف ظفر
- جو حروف لکھ گیا تھا مری آرزو کا بچپنانہیں دھو سکے نہ دل سے مری زندگی کے ساونیوسف ظفر
- شہر لگتا ہے بیابان مجھےکہیں ملتا نہیں انسان مجھےیوسف ظفر
- کیا ڈھونڈنے آئے ہو نظر میںدیکھا ہے تمہیں کو عمر بھر میںیوسف ظفر
- میں لپٹتا رہا ہوں خاروں سےتم نے پوچھا نہیں بہاروں سےیوسف ظفر
- میں ہوں تیرے لیے بے نام و نشاں آوارہزندگی میرے لیے تو ہے کہاں آوارہیوسف ظفر
- وہ میری جان ہے دل سے کبھی جدا نہ ہواکہ اس کا غم ہی مری زیست کا بہا نہ ہوایوسف ظفر
- ہم گرچہ دل و جان سے بیزار ہوئے ہیںخوش ہیں کہ ترے غم کے سزا وار ہوئے ہیںیوسف ظفر
- ہے گلو گیر بہت رات کی پہنائی بھیتیرا غم بھی ہے مجھے اور غم تنہائی بھییوسف ظفر
- یارو ہر غم غم یاراں ہے قریب آ جاؤپیارو پھر فصل بہاراں ہے قریب آ جاؤیوسف ظفر