Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. غنچۂ دل کھلے جو چاہو تمگلشن دہر میں صبا ہو تمواجد علی شاہ
  2. کبھی لطف زبان خوش بیاں تھےزمین شعر کے ہم آسماں تھےواجد علی شاہ
  3. گرمیاں شوخیاں کس شان سے ہم دیکھتے ہیںکیا ہی نادانیاں نادان سے ہم دیکھتے ہیںواجد علی شاہ
  4. لبالب کر دے اے ساقی ہے خالی میرا پیمانہسلامت دور گردوں تک یہ شیشہ اور یہ مے خانہواجد علی شاہ
  5. لجیائی سے نازک ہے اے جان بدن تیرااب چھو نہیں سکتے ہم پھولا یہ چمن تیراواجد علی شاہ
  6. محبت سے بندہ بنا لیجئے گابتا دیجیے کیا خدا لیجئے گاواجد علی شاہ
  7. نایاب ہے سکون دل بے قرار میںبسمل کی ہے تڑپ مرے کنج مزار میںواجد علی شاہ
  8. یاد میں اپنے یار جانی کیہم نے مر مر کے زندگانی کیواجد علی شاہ
  9. بتو خدا سے ڈرو سنگ دل سوا نہ کرویہ موم دل ہے ہمارا اسے جدا نہ کروواجد علی شاہ
  10. پڑا ہے پاؤں میں اب سلسلہ محبت کابرا ہمارا ہوا ہو بھلا محبت کاواجد علی شاہ
  11. زہرہ سہیل شمس خور بدر بہا تو کون ہےہوش ربا ستم گر مہ لقا تو کون ہےواجد علی شاہ
  12. سن رکھو اسے دل کا لگانا نہیں اچھادنیا یہ بری ہے یہ زمانہ نہیں اچھاواجد علی شاہ
  13. پوچھتا کون ہے ڈرتا ہے تو اے یار عبثقتل کرنے سے مرے ہے تجھے انکار عبثبیاں احسن اللہ خان
  14. تیرا ستم جو مجھ سے گدا نے سہا سہاتو بادشہ ہے جو مجھے تو نے کہا کہابیاں احسن اللہ خان
  15. تیغ چڑھ اس کی سان پر آئیدیکھیں کس کس کی جان پر آئیبیاں احسن اللہ خان
  16. جادو تھی سحر تھی بلا تھیظالم یہ تری نگاہ کیا تھیبیاں احسن اللہ خان
  17. جا کہے کوئے یار میں کوئیمر گیا انتظار میں کوئیبیاں احسن اللہ خان
  18. جو زمیں پر فراغ رکھتے ہیںآسماں پر دماغ رکھتے ہیںبیاں احسن اللہ خان
  19. دل اب اس دل شکن کے پاس کہاںچیل کے گھونسلے میں ماس کہاںبیاں احسن اللہ خان
  20. رات اس تنک مزاج سے کچھ بات بڑھ گئیوہ روٹھ کر گیا تو غضب رات بڑھ گئیبیاں احسن اللہ خان
  21. زلف تیری نے پریشاں کیا اے یار مجھےتیری آنکھوں نے کیا آپ سا بیمار مجھےبیاں احسن اللہ خان
  22. شکوہ اپنے طالعوں کی نارسائی کا کروںیا گلہ اے شوخ تیری بے وفائی کا کروںبیاں احسن اللہ خان
  23. فرہاد کس امید پہ لاتا ہے جوئے شیرواں خون کی ہوس ہے نہیں آرزوئے شیربیاں احسن اللہ خان
  24. کوئی سمجھائیو یارو مرا محبوب جاتا ہےمرا مقصود جاتا ہے مرا مطلوب جاتا ہےبیاں احسن اللہ خان
  25. کوئی کسی کا کہیں آشنا نہیں دیکھاسوائے اس کے ان آنکھوں نے کیا نہیں دیکھابیاں احسن اللہ خان
  26. کہا اغیار کا حق میں مرے منظور مت کیجومجھے نزدیک سے اپنے کبھو تو دور مت کیجوبیاں احسن اللہ خان
  27. کہتا ہے کون ہجر مجھے صبح و شام ہوپر وصل میں بھی لطف نہیں جو مدام ہوبیاں احسن اللہ خان
  28. لے کے دل اس شوخ نے اک داغ سینے پر دیاجو لیا اس کا عوض اس سے مجھے بہتر دیابیاں احسن اللہ خان
  29. مت ستا مجھ کو آن آن عزیزٹک کہا بھی کسی کا مان عزیزبیاں احسن اللہ خان
  30. میں ترے ڈر سے رو نہیں سکتاگرد غم دل سے دھو نہیں سکتابیاں احسن اللہ خان
  31. نہ فقط یار بن شراب ہے تلخعیش و آرام و خورد و خواب ہے تلخبیاں احسن اللہ خان
  32. یا رب نہ ہند ہی میں یہ ماٹی خراب ہوجا کر نجف میں خاک در بو تراب ہوبیاں احسن اللہ خان
  33. یہ آرزو ہے کہ وہ نامہ بر سے لے کاغذبلا سے پھاڑ کے پھر ہاتھ میں نہ لے کاغذبیاں احسن اللہ خان
  34. یہ خوب رو نہ چھری نے کٹار رکھتے ہیںنگاہ لطف سے عالم کو مار رکھتے ہیںبیاں احسن اللہ خان
  35. عشوہ ہے ناز ہے غمزہ ہے ادا ہے کیا ہےقہر ہے سحر ہے جادو ہے بلا ہے کیا ہےبیاں احسن اللہ خان
  36. اے بے خبری جی کا یہ کیا حال ہے کل سےرونے میں مزا ہے نہ بہلتا ہے غزل سےیوسف ظفر
  37. بے طلب ایک قدم گھر سے نہ باہر جاؤںورنہ میں پھاند کے ہی سات سمندر جاؤںیوسف ظفر
  38. پانی کو آگ کہہ کے مکر جانا چاہئےپلکوں پہ اشک بن کے ٹھہر جانا چاہئےیوسف ظفر
  39. پکارتا ہوں کہ تم حاصل تمنا ہواگرچہ میری صدا بھی صدا بہ صحرا ہویوسف ظفر
  40. تعمیر زندگی کو نمایاں کیا گیاتخریب کائنات کا ساماں کیا گیایوسف ظفر
  41. جس کا بدن ہے خوشبو جیسا جس کی چال صبا سی ہےاس کو دھیان میں لاؤں کیسے وہ سپنوں کا باسی ہےیوسف ظفر
  42. جو حروف لکھ گیا تھا مری آرزو کا بچپنانہیں دھو سکے نہ دل سے مری زندگی کے ساونیوسف ظفر
  43. شہر لگتا ہے بیابان مجھےکہیں ملتا نہیں انسان مجھےیوسف ظفر
  44. کیا ڈھونڈنے آئے ہو نظر میںدیکھا ہے تمہیں کو عمر بھر میںیوسف ظفر
  45. میں لپٹتا رہا ہوں خاروں سےتم نے پوچھا نہیں بہاروں سےیوسف ظفر
  46. میں ہوں تیرے لیے بے نام و نشاں آوارہزندگی میرے لیے تو ہے کہاں آوارہیوسف ظفر
  47. وہ میری جان ہے دل سے کبھی جدا نہ ہواکہ اس کا غم ہی مری زیست کا بہا نہ ہوایوسف ظفر
  48. ہم گرچہ دل و جان سے بیزار ہوئے ہیںخوش ہیں کہ ترے غم کے سزا وار ہوئے ہیںیوسف ظفر
  49. ہے گلو گیر بہت رات کی پہنائی بھیتیرا غم بھی ہے مجھے اور غم تنہائی بھییوسف ظفر
  50. یارو ہر غم غم یاراں ہے قریب آ جاؤپیارو پھر فصل بہاراں ہے قریب آ جاؤیوسف ظفر