بتو خدا سے ڈرو سنگ دل سوا نہ کرو

واجد علی شاہ

بتو خدا سے ڈرو سنگ دل سوا نہ کرو

یہ موم دل ہے ہمارا اسے جدا نہ کرو

نہ ٹھنڈی سانسیں بھرو دور مے میں ہم نفساں

یہ آگ بھڑکے گی مے خانے میں ہوا نہ کرو

ہم آنکھیں بند کریں پھر دکھاؤ رنگینی

جو چور پکڑا ہے تم شوخئ حنا نہ کرو

چکور ہم کو بنایا دکھا کے عریانی

یہ کھیل چاندنی میں آ کے مہ لقا نہ کرو

یہ کس زبان میں کہتے ہو بد مزا نہ کرو