یارو ہر غم غم یاراں ہے قریب آ جاؤ

یوسف ظفر

یارو ہر غم غم یاراں ہے قریب آ جاؤ

پیارو پھر فصل بہاراں ہے قریب آ جاؤ

دور ہو کر بھی سنیں تم نے حکایات وفا

قرب میں بھی وہی عنواں ہے قریب آ جاؤ

ہم محبت کے مسافر ہیں کہیں دیکھ نہ لیں

دھات میں گردش دوراں ہے قریب آ جاؤ

جان پیاری ہے کہ تم بھی ہو مری جان کے ساتھ

غم جاں ہی غم جاناں ہے قریب آ جاؤ

آج دنیا کو نہیں اپنے غموں سے فرصت

آج مل بیٹھنا آساں ہے قریب آ جاؤ

کس مروت پہ زمانے سے ڈریں دور رہیں

آؤ اللہ نگہباں ہے قریب آ جاؤ

مرے ہی پہلوئے سوزاں میں سکوں ممکن ہے

چار سو گردش دوراں ہے قریب آ جاؤ

جاؤ اب جاؤ کہ وہ عہد وفا ختم ہوا

جب بھی دیکھو کہ پھر امکاں ہے قریب آ جاؤ

میں زمانے کی کڑی دھوپ کا مارا ہوں ظفرؔ

تم کہاں ہو چمنستاں ہے قریب آ جاؤ