نہ فقط یار بن شراب ہے تلخ
بیاں احسن اللہ خاننہ فقط یار بن شراب ہے تلخ
عیش و آرام و خورد و خواب ہے تلخ
میٹھی باتیں کدھر گئیں پیارے
اب تو ہر بات کا جواب ہے تلخ
ساتھ دینا یہ بوسہ و دشنام
قند شیریں ہے اور گلاب ہے تلخ
دل ہی سمجھے ہے اس حلاوت کو
گو بہ ظاہر ترا عتاب ہے تلخ
دل سے مستوں کے کوئی پوچھے بیاں
زاہدوں کو شراب ناب ہے تلخ