جا کہے کوئے یار میں کوئی
بیاں احسن اللہ خانجا کہے کوئے یار میں کوئی
مر گیا انتظار میں کوئی
چھوڑ سو کام آ پہنچ ساقی
جاں بہ لب ہے خمار میں کوئی
وہ بھی کیا رات تھی کہ سوتا تھا
سر رکھے اس کنار میں کوئی
مت گزر خاک پر شہیدوں کی
چین لے ٹک مزار میں کوئی
کیوں بیاںؔ سیر باغ کی رخصت
نہیں دیتا بہار میں کوئی