Poetry
Poet
Meter
- جبیں پر خاک ہے یہ کس کے در کیبلائیں لے رہا ہوں اپنے سر کیمبارک عظیم آبادی
- جو پانچ وقت مصلے پہ قبلہ رو نکلےانہیں بزرگوں کے زیر بغل سبو نکلےمبارک عظیم آبادی
- جو نگاہ ناز کا بسمل نہیںدل نہیں وہ دل نہیں وہ دل نہیںمبارک عظیم آبادی
- چتون جو قہر کی ہے تو تیور جلال کےمطلب یہ ہے کہ رکھ دے کلیجہ نکال کےمبارک عظیم آبادی
- درد دل یار رہا درد سے یاری نہ گئیزندگی ہم سے تو بے لطف گزاری نہ گئیمبارک عظیم آبادی
- دیکھے اسے ہر آنکھ کا یہ کام نہیں ہےکچھ کھیل تماشائے لب بام نہیں ہےمبارک عظیم آبادی
- ستم کرو نہ کرو اختیار باقی ہےجو ہم نہیں تو ہمارا مزار باقی ہےمبارک عظیم آبادی
- سمجھائیں کس طرح دل ناکردہ کار کویہ دوستی سمجھتا ہے دشمن کے پیار کومبارک عظیم آبادی
- عجب رنگ کی مے پرستی رہیکہ بے مے پیے مے کی مستی رہیمبارک عظیم آبادی
- عشق کی چوسر کس نے کھیلی یہ تو کھیل ہمارے ہیںدل کی بازی مات ہوئی تو جان کی بازی ہارے ہیںمبارک عظیم آبادی
- کہتے ہیں کہ دے میری بلا داد کسی کیکانوں کو مزہ دیتی ہے فریاد کسی کیمبارک عظیم آبادی
- کیوں کیا کرتے ہیں آہیں کوئی ہم سے پوچھےکر گئیں کیا وہ نگاہیں کوئی ہم سے پوچھےمبارک عظیم آبادی
- گھٹا اٹھی ہے کالی اور کالی ہوتی جاتی ہےصراحی جو بھری جاتی ہے خالی ہوتی جاتی ہےمبارک عظیم آبادی
- لگا دے سوز محبت پھر آگ سینے میںمزہ پھر آنے لگے دل جلوں کو جینے میںمبارک عظیم آبادی
- لے چلا پھر مجھے دل یار دل آزار کے پاساب کے چھوڑ آؤں گا ظالم کو ستم گار کے پاسمبارک عظیم آبادی
- محبت میں ٹھنی اکثر یہاں تککہ پہنچے معرکے تیر و کماں تکمبارک عظیم آبادی
- میرے سر سے کیا غرض سرکار کودیکھیے اپنے در و دیوار کومبارک عظیم آبادی
- ناوک کہیں سناں کہیں تلوار کیا کہیںتو ہی بتا تجھے نگۂ یار کیا کہیںمبارک عظیم آبادی
- نہ لائے تاب دید اوسان والےترے جلوے بھی ہیں کیا شان والےمبارک عظیم آبادی
- یا دور مرا حجاب کر دےیا اپنے کو بے نقاب کر دےمبارک عظیم آبادی
- یوں یہ بدلی کالی کالی جائے گیپاک بازوں میں بھی ڈھالی جائے گیمبارک عظیم آبادی
- یہاں کیا ہے وہاں کیا ہے ادھر کیا ہے ادھر کیا ہےکوئی سمجھے تو کیا سمجھے وہ نیرنگ نظر کیا ہےمبارک عظیم آبادی
- اسے سودا اسے سودا یہ دیوانہ وہ دیوانہہوا کیا موسم گل کی جنوں انگیز ہوتی ہےمبارک عظیم آبادی
- بیگانۂ وفا ترا شیوہ ہی اور ہےاہل وفا کا طور طریقہ ہی اور ہےمبارک عظیم آبادی
- تماشائی تو ہیں تماشا نہیں ہےگرا ہے وہ پردہ کہ اٹھتا نہیں ہےمبارک عظیم آبادی
- اس قدر غرق لہو میں یہ دل زار نہ تھاجب حنا سے ترے پاؤں کو سروکار نہ تھاانعام اللہ خاں یقین
- اس گل سے کچھ حجاب ہمیں درمیاں نہ تھاجس دن کہ یہ بہار نہ تھی گلستاں نہ تھاانعام اللہ خاں یقین
- اگرچہ عشق میں آفت ہے اور بلا بھی ہےنرا برا نہیں یہ شغل کچھ بھلا بھی ہےانعام اللہ خاں یقین
- بہار آئی ہے کیا کیا چاک جیب پیرہن کرتےجو ہم بھی چھوٹ جاتے اب تو کیا دیوانہ پن کرتےانعام اللہ خاں یقین
- تیری آنکھوں کی کیفیت کو میخانے سے کیا نسبتنگہ کی گردشوں کو دور پیمانے سے کیا نسبتانعام اللہ خاں یقین
- ٹک اک انصاف کر اتنی بھی کرتا ہے جفا کوئیکرے گا بعد میرے کس توقع پر وفا کوئیانعام اللہ خاں یقین
- چلا آنکھوں سے جب کشتی میں وہ محبوب جاتا ہےکبھی آنکھیں بھر آتی ہیں کبھی جی ڈوب جاتا ہےانعام اللہ خاں یقین
- چمن میں مجھ سے دیوانے کے لے جانے سے کیا حاصلدکھا کر گل جنوں کو شور میں لانے سے کیا حاصلانعام اللہ خاں یقین
- حق مجھے باطل آشنا نہ کرےمیں بتوں سے پھروں خدا نہ کرےانعام اللہ خاں یقین
- دل نہیں کھنچتا ہے بن مجنوں بیاباں کی طرفخوش نہیں آتا نظر کرنا غزالاں کی طرفانعام اللہ خاں یقین
- دوانہ مجھ سا کب جیتا ہے کیوں تدبیر کرتے ہیںکوئی دن چلنے پھرنے دیں عبث زنجیر کرتے ہیںانعام اللہ خاں یقین
- سریر سلطنت سے آستان یار بہتر تھاہمیں ظل ہما سے سایۂ دیوار بہتر تھاانعام اللہ خاں یقین
- شب ہجراں کی وحشت کو تو اے بیداد کیا جانےجو دن پڑتے ہیں راتوں کو مجھے تیری بلا جانےانعام اللہ خاں یقین
- شہر میں تھا نہ ترے حسن کا یہ شور کبھومصر اس جنس سے اتنا نہ تھا معمور کبھوانعام اللہ خاں یقین
- عشق تیرے سے لگاوے نہ خدا عار مجھےنہ کرے دام رہائی میں گرفتار مجھےانعام اللہ خاں یقین
- عمر آخر ہے جنوں کر لوں بہاراں پھر کہاںہاتھ مت پکڑو مرا یارو گریباں پھر کہاںانعام اللہ خاں یقین
- کار دیں اس بت کے ہاتھوں ہائے ابتر ہو گیاجس مسلماں نے اسے دیکھا وہ کافر ہو گیاانعام اللہ خاں یقین
- کب سنے زنجیر مجھ مجروح دیوانے کی عرضنیں پہنچتی کان تک اس زلف کے شانے کی عرضانعام اللہ خاں یقین
- کر سکے کیا عقل میرے غم کے جانے کا علاجکام کب آتا ہے دیوانوں کو سیانے کا علاجانعام اللہ خاں یقین
- کم نہیں ہم بوجھتے کعبہ سے میخانے کے تئیںسجدہ ہم کرتے ہیں جوں محراب پیمانے کے تئیںانعام اللہ خاں یقین
- کوئی میداں نہ جیتا عشق کا فرہاد کے آگےکسو نے دم نہ مارا تیشۂ فولاد کے آگےانعام اللہ خاں یقین
- کیا دل ہے اگر جلوہ گہہ یار نہ ہووےہے طور سے کیا کام جو دیدار نہ ہووےانعام اللہ خاں یقین
- گریباں پھاڑتے ہیں دیکھ خوبان چمن کیوں کرنہ کیجے چاک ناصح اس ہوا میں پیرہن کیوں کرانعام اللہ خاں یقین
- گئے سب بھول شکوے دیکھ روئے یار کیا کہیےزباں حیرت سے میری ہو گئی بے کار کیا کہیےانعام اللہ خاں یقین
- محبت میں مروت کی حکایت کے سخن خالیکہ جوں فانوس دل کی شمع بن ہے پیرہن خالیانعام اللہ خاں یقین