Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. جبیں پر خاک ہے یہ کس کے در کیبلائیں لے رہا ہوں اپنے سر کیمبارک عظیم آبادی
  2. جو پانچ وقت مصلے پہ قبلہ رو نکلےانہیں بزرگوں کے زیر بغل سبو نکلےمبارک عظیم آبادی
  3. جو نگاہ ناز کا بسمل نہیںدل نہیں وہ دل نہیں وہ دل نہیںمبارک عظیم آبادی
  4. چتون جو قہر کی ہے تو تیور جلال کےمطلب یہ ہے کہ رکھ دے کلیجہ نکال کےمبارک عظیم آبادی
  5. درد دل یار رہا درد سے یاری نہ گئیزندگی ہم سے تو بے لطف گزاری نہ گئیمبارک عظیم آبادی
  6. دیکھے اسے ہر آنکھ کا یہ کام نہیں ہےکچھ کھیل تماشائے لب بام نہیں ہےمبارک عظیم آبادی
  7. ستم کرو نہ کرو اختیار باقی ہےجو ہم نہیں تو ہمارا مزار باقی ہےمبارک عظیم آبادی
  8. سمجھائیں کس طرح دل ناکردہ کار کویہ دوستی سمجھتا ہے دشمن کے پیار کومبارک عظیم آبادی
  9. عجب رنگ کی مے پرستی رہیکہ بے مے پیے مے کی مستی رہیمبارک عظیم آبادی
  10. عشق کی چوسر کس نے کھیلی یہ تو کھیل ہمارے ہیںدل کی بازی مات ہوئی تو جان کی بازی ہارے ہیںمبارک عظیم آبادی
  11. کہتے ہیں کہ دے میری بلا داد کسی کیکانوں کو مزہ دیتی ہے فریاد کسی کیمبارک عظیم آبادی
  12. کیوں کیا کرتے ہیں آہیں کوئی ہم سے پوچھےکر گئیں کیا وہ نگاہیں کوئی ہم سے پوچھےمبارک عظیم آبادی
  13. گھٹا اٹھی ہے کالی اور کالی ہوتی جاتی ہےصراحی جو بھری جاتی ہے خالی ہوتی جاتی ہےمبارک عظیم آبادی
  14. لگا دے سوز محبت پھر آگ سینے میںمزہ پھر آنے لگے دل جلوں کو جینے میںمبارک عظیم آبادی
  15. لے چلا پھر مجھے دل یار دل آزار کے پاساب کے چھوڑ آؤں گا ظالم کو ستم گار کے پاسمبارک عظیم آبادی
  16. محبت میں ٹھنی اکثر یہاں تککہ پہنچے معرکے تیر و کماں تکمبارک عظیم آبادی
  17. میرے سر سے کیا غرض سرکار کودیکھیے اپنے در و دیوار کومبارک عظیم آبادی
  18. ناوک کہیں سناں کہیں تلوار کیا کہیںتو ہی بتا تجھے نگۂ یار کیا کہیںمبارک عظیم آبادی
  19. نہ لائے تاب دید اوسان والےترے جلوے بھی ہیں کیا شان والےمبارک عظیم آبادی
  20. یا دور مرا حجاب کر دےیا اپنے کو بے نقاب کر دےمبارک عظیم آبادی
  21. یوں یہ بدلی کالی کالی جائے گیپاک بازوں میں بھی ڈھالی جائے گیمبارک عظیم آبادی
  22. یہاں کیا ہے وہاں کیا ہے ادھر کیا ہے ادھر کیا ہےکوئی سمجھے تو کیا سمجھے وہ نیرنگ نظر کیا ہےمبارک عظیم آبادی
  23. اسے سودا اسے سودا یہ دیوانہ وہ دیوانہہوا کیا موسم گل کی جنوں انگیز ہوتی ہےمبارک عظیم آبادی
  24. بیگانۂ وفا ترا شیوہ ہی اور ہےاہل وفا کا طور طریقہ ہی اور ہےمبارک عظیم آبادی
  25. تماشائی تو ہیں تماشا نہیں ہےگرا ہے وہ پردہ کہ اٹھتا نہیں ہےمبارک عظیم آبادی
  26. اس قدر غرق لہو میں یہ دل زار نہ تھاجب حنا سے ترے پاؤں کو سروکار نہ تھاانعام اللہ خاں یقین
  27. اس گل سے کچھ حجاب ہمیں درمیاں نہ تھاجس دن کہ یہ بہار نہ تھی گلستاں نہ تھاانعام اللہ خاں یقین
  28. اگرچہ عشق میں آفت ہے اور بلا بھی ہےنرا برا نہیں یہ شغل کچھ بھلا بھی ہےانعام اللہ خاں یقین
  29. بہار آئی ہے کیا کیا چاک جیب پیرہن کرتےجو ہم بھی چھوٹ جاتے اب تو کیا دیوانہ پن کرتےانعام اللہ خاں یقین
  30. تیری آنکھوں کی کیفیت کو میخانے سے کیا نسبتنگہ کی گردشوں کو دور پیمانے سے کیا نسبتانعام اللہ خاں یقین
  31. ٹک اک انصاف کر اتنی بھی کرتا ہے جفا کوئیکرے گا بعد میرے کس توقع پر وفا کوئیانعام اللہ خاں یقین
  32. چلا آنکھوں سے جب کشتی میں وہ محبوب جاتا ہےکبھی آنکھیں بھر آتی ہیں کبھی جی ڈوب جاتا ہےانعام اللہ خاں یقین
  33. چمن میں مجھ سے دیوانے کے لے جانے سے کیا حاصلدکھا کر گل جنوں کو شور میں لانے سے کیا حاصلانعام اللہ خاں یقین
  34. حق مجھے باطل آشنا نہ کرےمیں بتوں سے پھروں خدا نہ کرےانعام اللہ خاں یقین
  35. دل نہیں کھنچتا ہے بن مجنوں بیاباں کی طرفخوش نہیں آتا نظر کرنا غزالاں کی طرفانعام اللہ خاں یقین
  36. دوانہ مجھ سا کب جیتا ہے کیوں تدبیر کرتے ہیںکوئی دن چلنے پھرنے دیں عبث زنجیر کرتے ہیںانعام اللہ خاں یقین
  37. سریر سلطنت سے آستان یار بہتر تھاہمیں ظل ہما سے سایۂ دیوار بہتر تھاانعام اللہ خاں یقین
  38. شب ہجراں کی وحشت کو تو اے بیداد کیا جانےجو دن پڑتے ہیں راتوں کو مجھے تیری بلا جانےانعام اللہ خاں یقین
  39. شہر میں تھا نہ ترے حسن کا یہ شور کبھومصر اس جنس سے اتنا نہ تھا معمور کبھوانعام اللہ خاں یقین
  40. عشق تیرے سے لگاوے نہ خدا عار مجھےنہ کرے دام رہائی میں گرفتار مجھےانعام اللہ خاں یقین
  41. عمر آخر ہے جنوں کر لوں بہاراں پھر کہاںہاتھ مت پکڑو مرا یارو گریباں پھر کہاںانعام اللہ خاں یقین
  42. کار دیں اس بت کے ہاتھوں ہائے ابتر ہو گیاجس مسلماں نے اسے دیکھا وہ کافر ہو گیاانعام اللہ خاں یقین
  43. کب سنے زنجیر مجھ مجروح دیوانے کی عرضنیں پہنچتی کان تک اس زلف کے شانے کی عرضانعام اللہ خاں یقین
  44. کر سکے کیا عقل میرے غم کے جانے کا علاجکام کب آتا ہے دیوانوں کو سیانے کا علاجانعام اللہ خاں یقین
  45. کم نہیں ہم بوجھتے کعبہ سے میخانے کے تئیںسجدہ ہم کرتے ہیں جوں محراب پیمانے کے تئیںانعام اللہ خاں یقین
  46. کوئی میداں نہ جیتا عشق کا فرہاد کے آگےکسو نے دم نہ مارا تیشۂ فولاد کے آگےانعام اللہ خاں یقین
  47. کیا دل ہے اگر جلوہ گہہ یار نہ ہووےہے طور سے کیا کام جو دیدار نہ ہووےانعام اللہ خاں یقین
  48. گریباں پھاڑتے ہیں دیکھ خوبان چمن کیوں کرنہ کیجے چاک ناصح اس ہوا میں پیرہن کیوں کرانعام اللہ خاں یقین
  49. گئے سب بھول شکوے دیکھ روئے یار کیا کہیےزباں حیرت سے میری ہو گئی بے کار کیا کہیےانعام اللہ خاں یقین
  50. محبت میں مروت کی حکایت کے سخن خالیکہ جوں فانوس دل کی شمع بن ہے پیرہن خالیانعام اللہ خاں یقین