Poetry
Poet
Meter
- مردود خلائق ہوں گنہ گار ہوں میںپامال جہاں ہوں کہ سزاوار ہوں میںساحر دہلوی
- ہر سر میں یہ سودا ہے کہ میں ہی میں ہوںہر دل میں سمایا ہے کہ میں ہی میں ہوںساحر دہلوی
- یارب مرے دل کو عطا صدق و صفاہو نقش صداقت سے فنا وہم ریاساحر دہلوی
- آشنا جو مزہ کا ہوتا ہےاپنے حق میں وہ کانٹے بوتا ہےمیر اثر
- اب غیر سے بھی تیری ملاقات رہ گئیسچ ہے کہ وقت جاتا رہا بات رہ گئیمیر اثر
- اثرؔ اب تک فریب کھاتا ہےتیری باتوں کو مان جاتا ہےمیر اثر
- اثرؔ کیجئے کیا کدھر جائیےمگر آپ ہی سے گزر جائیےمیر اثر
- ایک تنہا خاطر محزوں جسے افکار سوایک مجھ بیمار سے وابستہ ہیں آزار سومیر اثر
- بے وفا تجھ سے کچھ گلا ہی نہیںتو تو گویا کہ آشنا ہی نہیںمیر اثر
- تو مری جان گر نہیں آتیزیست ہوتی نظر نہیں آتیمیر اثر
- تیرے آنے کا احتمال رہامرتے مرتے یہی خیال رہامیر اثر
- تیرے وعدوں کا اعتبار کسےگو کہ ہو تاب انتظار کسےمیر اثر
- جب کہ ایدھر تری نگاہ پڑیمیرے ہی دل پہ میری آہ پڑیمیر اثر
- جوں گل تو ہنسے ہے کھل کھلا کرشبنم کی طرح مجھے رلا کرمیر اثر
- خفا اس سے کیوں تو مری جان ہےاثرؔ تو کوئی دم کا مہمان ہےمیر اثر
- دل میں سو آرمان رکھتا ہوںپیارے آخر میں جان رکھتا ہوںمیر اثر
- دیجئے رخصت بوسہ نہیں لے بیٹھیں گےپیارے یہ یاد رہے جان بھی دے بیٹھیں گےمیر اثر
- دیکھ کر دل کو پیچ و تاب کے بیچآ پڑا مفت میں عذاب کے بیچمیر اثر
- زیست ہونی تعجبات ہے ابمر ہی جانا بس ایک بات ہے ابمیر اثر
- صرف غم ہم نے نوجوانی کیواہ کیا خوب زندگانی کیمیر اثر
- غم کو باہم بہم نہ کیجےگر غم ہے تو غم کا غم نہ کیجےمیر اثر
- کبھو ہم سے بھی وفا کیجئے گایا یہی جور و جفا کیجئے گامیر اثر
- کر کے دل کو شکار آنکھوں میںگھر کرے ہے تو یار آنکھوں میںمیر اثر
- کسو کو مجھ سے نے مجھ کو کسو سے کام رہتا ہےمرے دل میں سوا تیرے خدا کا نام رہتا ہےمیر اثر
- کہیں ظاہر یہ تیری چاہ نہ کیمرتے مرتے بھی ہم نے آہ نہ کیمیر اثر
- کیدھر کی خوشی کہاں کی شادیجب دل سے ہوس ہی سب اڑا دیمیر اثر
- گرچہ دل میں ہی سدا جان جہاں رہتے ہوپر بظاہر نہیں معلوم کہاں رہتے ہومیر اثر
- لوگ کہتے ہیں یار آتا ہےدل تجھے اعتبار آتا ہےمیر اثر
- مرض عشق دل کو زور لگاجاں بلب ہوں خیال گور لگامیر اثر
- نالہ کرنا کہ آہ کرنادل میں اثرؔ اس کے راہ کرنامیر اثر
- نہ برق نہ شعلہ نے شرر ہوںجو کہئے سو قصہ مختصر ہوںمیر اثر
- نہ لگا لے گئے جہاں دل کوآہ لے جائیے کہاں دل کومیر اثر
- وحشت زدہ دل تو جوں شرر ہےاس کے تئیں آپ سے سفر ہےمیر اثر
- ہم غلط احتمال رکھتے تھےتجھ سے کیا کیا خیال رکھتے تھےمیر اثر
- ہم ہیں بے دل دل اپنے پاس نہیںآہ اس کا بھی تجھ کو پاس نہیںمیر اثر
- بے کسی میں اثر یگانہ ہےدل بھی اس کا نہیں بیگانہ ہےمیر اثر
- جو بات ہے تیری سو نرالیعشاق کشی نئی نکالیمیر اثر
- کہوں کیا دل اڑانے کا ترا کچھ ڈھب نرالا تھاوگرنہ ہر طرح سے اب تلک تو میں سنبھالا تھامیر اثر
- میں تجھے واہ کیا تماشا ہےذہن میں آشنا تراشا ہےمیر اثر
- آب و دانہ ترا اے بلبل زار اٹھتا ہےفصل گل جاتی ہے سامان بہار اٹھتا ہےمبارک عظیم آبادی
- اب کون بات رہ گئی یہ بات بھی گئییعنی کبھی کبھی کی ملاقات بھی گئیمبارک عظیم آبادی
- بدظن ہیں اہل کعبہ مجھ دیر آشنا سےکہتے ہیں مجھ کو کافر فریاد ہے خدا سےمبارک عظیم آبادی
- بغل میں ہم نے رات اک غیرت مہتاب دیکھا ہےتمہیں اس خواب کی تعبیر ہو کیا خواب دیکھا ہےمبارک عظیم آبادی
- بکھری ہوئی ہے یوں مری وحشت کی داستاںدامن کدھر کدھر ہے گریباں کہاں کہاںمبارک عظیم آبادی
- پردے پردے میں بہت مجھ پہ ترے وار چلےصاف اب حلق پہ خنجر چلے تلوار چلےمبارک عظیم آبادی
- پوچھی تقصیر تو بولے کوئی تقصیر نہیںہاتھ جوڑے تو کہا یہ کوئی تعزیر نہیںمبارک عظیم آبادی
- پھر ملے ہم ان سے پھر یاری بڑھیاور الجھا دل گرفتاری بڑھیمبارک عظیم آبادی
- تازہ آزار کا ارمان کہاں جاتا ہےپھر ستا لے ترے قربان کہاں جاتا ہےمبارک عظیم آبادی
- تم وقت پہ کر جاتے ہو پیمان فراموشیہ بھول نہیں ہوتی مری جان فراموشمبارک عظیم آبادی
- تمہاری شرط محبت کبھی وفا نہ ہوئییہ کیا ہوئی تمہیں کہہ دو اگر جفا نہ ہوئیمبارک عظیم آبادی