Poetry
Poet
Meter
- مصر میں حسن کی وہ گرمئ بازار کہاںجنس تو ہے پہ زلیخا سا خریدار کہاںانعام اللہ خاں یقین
- مفت کب آزاد کرتی ہے گرفتاری مجھےجی ہے آخر لے کے چھوڑے گی یہ بیماری مجھےانعام اللہ خاں یقین
- منہ پہ کھاتا ہے یہ اس طرح سے تلوار کہ بسدل مرا عشق میں ایسا ہے جگر دار کہ بسانعام اللہ خاں یقین
- وہ کون دل ہے جہاں جلوہ گر وہ نور نہیںاس آفتاب کا کس ذرہ میں ظہور نہیںانعام اللہ خاں یقین
- ہے ترے داغ سے تر سینۂ سوزاں میراآب و رنگ آگ سے رکھتا ہے گلستاں میراانعام اللہ خاں یقین
- یار کب دل کی جراحت پہ نظر کرتا ہےکون اس کوچے میں جز تیرے گزر کرتا ہےانعام اللہ خاں یقین
- یہ وہ آنسو ہیں جن سے زہرہ آتش ناک ہو جاوےاگر پیوے کوئی ان کو تو جل کر خاک ہو جاوےانعام اللہ خاں یقین
- پڑ گئی دل میں ترے تشریف فرمانے میں دھومباغ میں مچتی ہے جیسے فصل گل آنے میں دھومانعام اللہ خاں یقین
- جب دیکھتا ہوں تنہا تجھ کو سجن چمن میںکس کس طرح کی باتیں آتی ہیں میرے من میںانعام اللہ خاں یقین
- نہیں معلوم اب کی سال مے خانے پہ کیا گزراہمارے توبہ کر لینے سے پیمانے پہ کیا گزراانعام اللہ خاں یقین
- آں سے ظالم کا امتحاں اور میںیہ ستم تیرے آسماں اور میںقربان علی سالک بیگ
- اب تو لب سے نہ جائے گا آگےنالے کا زور شور تھا آگےقربان علی سالک بیگ
- اچھی نبھی بتان ستم آشنا کے ساتھاب بعد مرگ دیکھیے کیا ہو خدا کے ساتھقربان علی سالک بیگ
- انتہا صبر آزمائی کیہے درازی شب جدائی کیقربان علی سالک بیگ
- انسان ہوس پیشہ سے کیا ہو نہیں سکتامجبور ہے اس سے کہ خدا ہو نہیں سکتاقربان علی سالک بیگ
- بھول کر بھی ادھر نہیں آتاوہ کبھی راہ پر نہیں آتاقربان علی سالک بیگ
- جو بھر لیں ایک چٹکی صاحب تاثیر مٹی کیابھی شرمندۂ تاثیر ہو اکسیر مٹی کیقربان علی سالک بیگ
- جی ہیچ جان ہیچ نہ دل نے جگر عزیزسب سے سوا ہے وصل ترا فتنہ گر عزیزقربان علی سالک بیگ
- چاک جگر و دل کا جب شکوہ بجا ہوتایوسف کا زلیخا نے دامن تو سیا ہوتاقربان علی سالک بیگ
- خیال گزرے کہاں کہاں کا ارادہ ان کو ہو گر یہیں کانہ کچھ ٹھکانا مرے گماں کا نہ کچھ ٹھکانا مرے یقیں کاقربان علی سالک بیگ
- دل پہ آفت آئی اب اک آن میںزلف کچھ کہتی ہے اس کے کان میںقربان علی سالک بیگ
- دل جہاں سے اٹھائے بیٹھے ہیںسب کو دیکھے دکھائے بیٹھے ہیںقربان علی سالک بیگ
- دل محبت مکان ہے گویاآرزو کا جہان ہے گویاقربان علی سالک بیگ
- دل وہ شے ہے کہ جو دیکھے تو کھچے یار کے ساتھیہ دکاں وہ ہے کہ چلتی ہے خریدار کے ساتھقربان علی سالک بیگ
- دیر و کعبہ کو رہ گزر سمجھےدل کو جو کوئی تیرا گھر سمجھےقربان علی سالک بیگ
- رکھو وہ شیوہ نہ مد نظر نظر میں رہےکہ جس سے راز محبت بشر بشر میں رہےقربان علی سالک بیگ
- کب ہے منظور کہ یوں جنس دل زار بکےپر یہ وہ شے ہے نہ بیچوں بھی تو سو بار بکےقربان علی سالک بیگ
- کچھ مجھے کہہ کے نہ کہوائیے آپبس زباں میری نہ کھلوایئے آپقربان علی سالک بیگ
- لطف میں واں ڈھنگ ہے بیداد کاکام دے اے خامشی فریاد کاقربان علی سالک بیگ
- مجھ پر ایسی جفا کی کثرت کیکہ اسے غیر نے ملامت کیقربان علی سالک بیگ
- مری خاطر میں ساقی کب ترا پیمانہ آتا ہےکہ یاں ہر دم خیال نرگس مستانہ آتا ہےقربان علی سالک بیگ
- مضطرب ہوں اب یہ جی کی بات ہےعفو کیجے بے خودی کی بات ہےقربان علی سالک بیگ
- ملی نہ فرصت جہاں ہو غش سے اٹھی جو کچھ بھی نقاب عارضمگر سمجھتے نہیں ابھی تک تم اپنا جلوہ حجاب عارضقربان علی سالک بیگ
- میں ہوا زینت مکان قفسدود افغاں ہے سائبان قفسقربان علی سالک بیگ
- نالاں نہیں کچھ ترے ستم پرایسی ہی بنی ہے اپنے دم پرقربان علی سالک بیگ
- واعظ ملے گی خلد میں کب اس قدر شرابپانی کے بدلے پیتے ہیں اے بے خبر شرابقربان علی سالک بیگ
- وہ زیب شبستاں ہوا چاہتا ہےیہ مجمع پریشاں ہوا چاہتا ہےقربان علی سالک بیگ
- ہاتھ میں لے کے نہ خنجر بیٹھیےقتل کرنا ہے تو بس کر بیٹھیےقربان علی سالک بیگ
- ہزار وعدے کیے ہیں تم نے کبھی کسی کو وفا نہ کرناچلو اسی پر جو غیر کہہ دیں کہیں ہمارا کہا نہ کرناقربان علی سالک بیگ
- یہ کیا لطف شور فغاں رہ گیازمیں رہ گئی آسماں رہ گیاقربان علی سالک بیگ
- اٹھے آج ان سے فیصلہ کر کےیا خفا ہو کے یا خفا کر کےقربان علی سالک بیگ
- جس قدر ضبط کیا اور بھی رونا آیایہ طبیعت نہیں آئی کوئی دریا آیاقربان علی سالک بیگ
- گرہ لب پہ جو مدعا ہو گیاوہ دل میں مرے آبلہ ہو گیاقربان علی سالک بیگ
- یوں عیاں تجھ کو دیکھتے ہیں ہمکہ نہاں تجھ کو دیکھتے ہیں ہمقربان علی سالک بیگ
- اپنے قاصد کو صبا باندھتے ہیںسچ ہے شاعر بھی ہوا باندھتے ہیںسخی لکھنوی
- ان کو نفرت اسے کیا کہتے ہیںہم کو رغبت اسے کیا کہتے ہیںسخی لکھنوی
- ان کی چٹکی میں دل نہ مل جاتاتو یہ سکہ ہمارا چل جاتاسخی لکھنوی
- بام پر آتا ہے ہمارا چاندآسماں سے کرے کنارا چاندسخی لکھنوی
- بہار آ کر جو گلشن میں وہ گائیںتو غنچہ ہر طرف چٹکی بجائیںسخی لکھنوی
- پہلو میں بیٹھ کر وہ پاتے کیادل تو تھا ہی نہیں چراتے کیاسخی لکھنوی