گھٹا اٹھی ہے کالی اور کالی ہوتی جاتی ہے

مبارک عظیم آبادی

گھٹا اٹھی ہے کالی اور کالی ہوتی جاتی ہے

صراحی جو بھری جاتی ہے خالی ہوتی جاتی ہے

جفا ہر چند دنیا سے نرالی ہوتی جاتی ہے

گلا کس منہ سے کیجے ہونے والی ہوتی جاتی ہے

وداع جاں ہے تن سے دل سے ارمانوں کی رخصت ہے

بھری محفل ہماری آج خالی ہوتی جاتی ہے

مبارکؔ میں تصدق اپنے اس مشق تصور کے

مجسم اب وہ تصویر خیالی ہوتی جاتی ہے