Poetry
Poet
Meter
- کیسے سمجھاؤں گا ان کو کہ پری آئے گیمیری باتوں پہ جنہیں صرف ہنسی آئے گیDanish Hayat (b. 1994)
- گلی سے گزروں تو اس پر بھی دھیان پڑتا ہےوہ جس کا گھر مرے رستے میں آن پڑتا ہےDanish Hayat (b. 1994)
- وحشت صدائے دشت ہے وحشت قبائے دشتمجھ پر کسی کی یاد نے کیا کیا بنائے دشتDanish Hayat (b. 1994)
- وہ حسن آنکھ سے دیکھا ہوا یقین مجھےاگرچہ روز بتاتے تھے زائرین مجھےDanish Hayat (b. 1994)
- آم موقعوں پہ نہ آنکھوں میں ابھارے آنسوہجر جس سے بھی ہو پر تجھ پہ ہی وارے آنسوVikram Sharma (b. 1994)
- اہل دنیا نیا نیا ہوں میںمعذرت خواب دیکھتا ہوں میںVikram Sharma (b. 1994)
- ایک خاموشی نے صدا پائیڈھائی حرفوں میں پھر وہ ہکلائیVikram Sharma (b. 1994)
- جن سے اٹھتا نہیں کلی کا بوجھان کے کندھوں پہ زندگی کا بوجھVikram Sharma (b. 1994)
- دشت میں یار کو پکارا جائےقیس صاحب کا روپ دھارا جائےVikram Sharma (b. 1994)
- سوچتا ہوں کہ دل زار کا مطلب کیا ہےایک ہنستے ہوئے بیمار کا مطلب کیا ہےVikram Sharma (b. 1994)
- کون نکلے گھر سے باہر رات میںسو گئے ہم اپنے اندر رات میںVikram Sharma (b. 1994)
- کوئی آغاز میں انجام بتا جاتا ہےاور پھر پوری کہانی کا مزہ جاتا ہےVikram Sharma (b. 1994)
- مری عادت ہے میں ہر راہبر سے بات کرتا ہوںگزرتا ہوں جو رستے سے شجر سے بات کرتا ہوںVikram Sharma (b. 1994)
- مشورہ ہے یہ بہتری کے لیےہم بچھڑ جاتے ہیں ابھی کے لئےVikram Sharma (b. 1994)
- یہ کیسے سانحے اب پیش آنے لگ گئے ہیںتیرے آغوش میں ہم چھٹ پٹانے لگ گئے ہیںVikram Sharma (b. 1994)
- اب چلو دیکھ لیں یہی کر کےاپنے ماضی پہ شاعری کر کےFaiz rahil Khan (b. 1994)
- تم دریا سا اشک بہاؤ تو جانیںکیا گزری ہے بات بتاؤ تو جانیںFaiz rahil Khan (b. 1994)
- جسم کی ریت بھی مٹھی سے پھسل جائے گیموت جب روح لیے گھر سے نکل جائے گیFaiz rahil Khan (b. 1994)
- دل میں تجھ کو شمار کر لوں میںہو اجازت تو پیار کر لوں میںFaiz rahil Khan (b. 1994)
- صبح لکھتی ہے ترا نام مری آنکھوں میںقید تنہائی کی ہے شام میری آنکھوں میںFaiz rahil Khan (b. 1994)
- غموں کی بھیڑ نے کچلا ہے مجھ کو شادمانی میںلگانا چاہتا تھا تشنگی کی آگ پانی میںFaiz rahil Khan (b. 1994)
- قدم قدم پہ کھڑی ہے ہوا پیام لیےکہ آ رہی ہے خزاں اپنا انتظام لیےFaiz rahil Khan (b. 1994)
- نیند آ جائے تو لمحات میں مر جاتے ہیںدن سے بچ نکلے بدن رات میں مر جاتے ہیںFaiz rahil Khan (b. 1994)
- یاد راتوں میں آ گیا کوئیرات مجھ کو رلا گیا کوئیFaiz rahil Khan (b. 1994)
- تمہارے جانے کا ہم کو ملال تھوڑی ہےاداسیوں میں تمہارا خیال تھوڑی ہےNadim Nadeem (b. 1994)
- چھو سکوں تجھ کو یہ اوقات کبھی تو ہوگیاور میسر بھی تری ذات کبھی تو ہوگیNadim Nadeem (b. 1994)
- سر اٹھانے کی تو ہمت نہیں کرنے والےیہ جو مردہ ہیں بغاوت نہیں کرنے والےNadim Nadeem (b. 1994)
- غور سے مجھ کو دیکھتا ہے کیامیرے چہرے پہ کچھ لکھا ہے کیاNadim Nadeem (b. 1994)
- کیا خبر کس کو کب کہاں دے دےاور دے دے تو دو جہاں دے دےNadim Nadeem (b. 1994)
- کئی دن سے کوئی ہچکی نہیں ہےوو ہم کو یاد اب کرتی نہیں ہےNadim Nadeem (b. 1994)
- ہم جو دیوار پہ تصویر بنانے لگ جائیںتتلیاں آ کے ترے رنگ چرانے لگ جائیںNadim Nadeem (b. 1994)
- بتاؤں کیا کسی سے دل میں کیا کیا ٹوٹ جاتا ہےکہ جب مفلس کے بچے کا کھلونا ٹوٹ جاتا ہےAaquib Shaad (b. 1994)
- دھوپ تھی سائبان تھا ہی نہیںمیرا کوئی مکان تھا ہی نہیںAaquib Shaad (b. 1994)
- ڈبو کے ملک سے تیرے حساب کا سورجنکالنا ہے ہمیں انقلاب کا سورجAaquib Shaad (b. 1994)
- میری خواہش قبول کر لیجےعشق کرنے کی بھول کر لیجےAaquib Shaad (b. 1994)
- وہ خوابوں میں تو آنا چاہتا ہےمگر نیندیں اڑانا چاہتا ہےAaquib Shaad (b. 1994)
- ہم جو گزرے ہوئے لمحوں کی طرف دیکھتے ہیںایسا لگتا ہے کہ صدیوں کی طرف دیکھتے ہیںAaquib Shaad (b. 1994)
- تم کو میں جب سلام کرتا ہوںتب فغاں گام گام کرتا ہوںBabar Rehman Shah (b. 1994)
- داستان غم تجھے بتلائیں کیازخم سینے کے تجھے دکھلائیں کیاBabar Rehman Shah (b. 1994)
- دل نے ہم سے عجب ہی کام لیاہم کو بیچا مگر نہ دام لیاBabar Rehman Shah (b. 1994)
- کسی کے جال میں آ کر میں اپنا دل گنوا بیٹھامجھے تھا عشق قاتل سے میں اپنا سر کٹا بیٹھاBabar Rehman Shah (b. 1994)
- مان لو صاحبو کہا میراکیوں کہ عبرت ہے نقش پا میراBabar Rehman Shah (b. 1994)
- نہیں نہیں یہ مرا عکس ہو نہیں سکتاکسی کے سامنے میں یوں تو رو نہیں سکتاBabar Rehman Shah (b. 1994)
- اٹھ رہا ہے دم بہ دم ڈر کا دھواںکم نہیں ہو پا رہا گھر کا دھواںVasaf Basit (b. 1994)
- اندروں نیند کا اک خالی مکاں ہوتا تھامیری آنکھوں میں ترا خواب نہاں ہوتا تھاVasaf Basit (b. 1994)
- ایک تصویر جو تشکیل نہیں ہو پائیکینوس پر کبھی تکمیل نہیں ہو پائیVasaf Basit (b. 1994)
- پری سفر میں رمق تک نہیں گئی ہوگیمجھے پتہ ہے دھنک تک نہیں گئی ہوگیVasaf Basit (b. 1994)
- مہتاب فضا کے آئنے میںدیکھا تھا خدا کے آئنے میںVasaf Basit (b. 1994)
- مانگ پاس وفا محبت میںروٹھ جاتا ہے یار حسرت میںHabib Rehman (b. 1994)
- مغرور محبت کی جزا راس نہ آئیچاہی تھی جو ہم نے وہ وفا راس نہ آئیHabib Rehman (b. 1994)