مانگ پاس وفا محبت میں
Habib Rehman (b. 1994)مانگ پاس وفا محبت میں
روٹھ جاتا ہے یار حسرت میں
ذکر موجودگی کا کرتا ہے
پاس رہتا نہیں وہ غربت میں
سنتے ہی نغمۂ وفا میرا
آ ہی جاتا ہے پھر وہ حرکت میں
حال پوچھا نہ کر تو اب میرا
اب رکھا کچھ نہیں طبیعت میں
کر دیا پل میں ریزہ ریزہ دل
اب لگے گی صدی مرمت میں
تو نے مقتل سمجھ لیا تھا دل
کیا ملا تجھ کو اس بغاوت میں
تو مجھے یہ بتا کے تو جاتا
کیسے جیتے ہیں یار فرقت میں
تم کبھی پڑھ نہیں سکو گے غم
جو لکھے ہیں حبیبؔ کے خط میں