Poetry
Poet
Meter
- بگڑنے والا کسی دن سنور ہی جائے گامزاج دوست بالآخر سدھر ہی جائے گاSabeela Inam Siddiqui (b. 1994)
- پیغام زندگی ہے خوشی کی نوید ہےمیرے لیے تو آپ کا دیدار عید ہےSabeela Inam Siddiqui (b. 1994)
- تم دل کی دل میں رکھو بتایا نہیں کرویوں کہہ کے داستان رلایا نہیں کروSabeela Inam Siddiqui (b. 1994)
- خاموش ہوں میں لب پہ شکایت تو نہیں ہےفریاد کروں یہ مری عادت تو نہیں ہےSabeela Inam Siddiqui (b. 1994)
- رکھے ہر اک قدم پہ جو مشکل کی آگہیملتی ہے اس کو راہ سے منزل کی آگہیSabeela Inam Siddiqui (b. 1994)
- کبھی تو دل کا کہا دل سے وہ سنے گا ہییہ قطرہ سنگ میں سوراخ تو کرے گا ہیSabeela Inam Siddiqui (b. 1994)
- کس کو بتاتے کس سے چھپاتے سراغ دلچپ سادھ لی ہے زخم دکھایا نہ داغ دلSabeela Inam Siddiqui (b. 1994)
- وفا کے راز سے پردہ نہیں اٹھاؤں گیمیں دل کے زخم تہ دل سے ہی چھپاؤں گیSabeela Inam Siddiqui (b. 1994)
- وہ اس ادا سے دعا کرے گاہمارا ہو کر رہا کرے گاSabeela Inam Siddiqui (b. 1994)
- ہے ترجمان الم اور ادیب ہے سردیتبھی تو نوک قلم سے قریب ہے سردیSabeela Inam Siddiqui (b. 1994)
- اپنے اپنے ہی خول میں ہم تمکیسے خود کو چھپا کے بیٹھ گئےSabeela Inam Siddiqui (b. 1994)
- ایک نازک بدن اور مسلا گیااف کلی کو درندوں نے نوچا ہے یوںSabeela Inam Siddiqui (b. 1994)
- خوب صورت ہو اضافہزیست کے اوراق میںSabeela Inam Siddiqui (b. 1994)
- شعلے بھڑک رہے ہیںعناد و فساد کےSabeela Inam Siddiqui (b. 1994)
- مالی نےپال پوس کےSabeela Inam Siddiqui (b. 1994)
- مشکل ہے در پیشدل کے اندر رہتا ہےSabeela Inam Siddiqui (b. 1994)
- یہاں ہر طرف ہیں اداکار چہرےمیں روداد دل کی کسے کیا بتاؤںSabeela Inam Siddiqui (b. 1994)
- خیالات و احساسجو بے ساختہ لکھ دیے ہیںSabeela Inam Siddiqui (b. 1994)
- محبت اور تجارت میںیہی اک فرق باقی ہےSabeela Inam Siddiqui (b. 1994)
- آنکھ تو ان پڑھ ہے اور نادان ہےدل کی خواہش ایک ہی انسان ہےAamir Ata (b. 1994)
- اب وہ سب کچھ کر رہے ہیں دوستی کی آڑ میںغیر ممکن تھا جو شاید دشمنی کی آڑ میںAamir Ata (b. 1994)
- اس طرح تو لگ رہا ہے چاند بھی خطرے میں ہےاس سے مل کر میں نے جانا روشنی خطرے میں ہےAamir Ata (b. 1994)
- بتا تو اے چمن لایا کہاں سےتری خوشبو تو ملتی ہے فلاں سےAamir Ata (b. 1994)
- بنام عشق دل توڑا گیا ہےبنا کر پھر مجھے ڈھایا گیا ہےAamir Ata (b. 1994)
- بے حجابانہ وہ کل جب بر سر محفل گئےجتنے مرجھائے تھے چہرے ایک دم سے کھل گئےAamir Ata (b. 1994)
- پورے مجمع کو لاجواب کیاحسن پر اس نے جب خطاب کیاAamir Ata (b. 1994)
- پہلے اپنایا خار پھولوں کاتب کہیں پایا پیار پھولوں کاAamir Ata (b. 1994)
- خوشی کا ایک لمحہ چاہئے تھاگھڑی بھر ساتھ تیرا چاہئے تھاAamir Ata (b. 1994)
- سب کو اپنی طرح سمجھتی ہےیار تو بھی نہ کتنی بھولی ہےAamir Ata (b. 1994)
- سچ بتانا کہ میرے بن جاناںکیسے کٹتے ہیں تیرے دن جاناںAamir Ata (b. 1994)
- عشق میں اب خون پانی کیجیےنذر وحشت یہ جوانی کیجیےAamir Ata (b. 1994)
- عمر گزری ہے تری گلیوں کے چکر کاٹ کرکیوں نہ لکھوں خود کو مجنوں میں سخنور کاٹ کرAamir Ata (b. 1994)
- کسی طرح تو اسے مار دوں جو باہر ہےوہ شخص کیسے مرے گا جو میرے اندر ہےAamir Ata (b. 1994)
- کسی کے ہجر کے سائے میں آ کھڑا ہوں میںعجیب دکھ ہے مرا چھاؤں میں جلا ہوں میںAamir Ata (b. 1994)
- نیچی نظر کشادہ جبیں درمیانہ قدگیسو دراز شیریں زباں حسن مستندAamir Ata (b. 1994)
- ہم تو روتے ہیں رونا خواہش کاوہ مزہ لے رہے ہیں بارش کاAamir Ata (b. 1994)
- یاد بھی اس کی خواب کی سی ہےایک لڑکی حجاب کی سی ہےAamir Ata (b. 1994)
- آنکھوں سے لگا لو مری اندازۂ وحشتتم کھول نہیں پاؤ گے دروازۂ وحشتDanish Hayat (b. 1994)
- اس کا لہجہ دیکھ رہا تھا بارش ہونے والی تھیبس اک میں ہی خشک پڑا تھا باقی تو ہریالی تھیDanish Hayat (b. 1994)
- ایک حسرت ہی رہی صبح کے آغاز کے ساتھوہ مجھے روز پکارے نئے انداز کے ساتھDanish Hayat (b. 1994)
- ترا چہرا اگر اترا ہوا ہےیہاں پر کچھ ہے جو اوچھا ہوا ہےDanish Hayat (b. 1994)
- خواب دکھائے جائیں گے تعبیر بنائی جائے گینقش سمیٹے جائیں گے تصویر بنائی جائے گیDanish Hayat (b. 1994)
- دیے کی آخری خواہش کا احترام کروتمام شہر جلانے کا اہتمام کروDanish Hayat (b. 1994)
- سوال کرتی ہوئی رات کے علاوہ ہےکہ مجھ میں کوئی مری ذات کے علاوہ ہےDanish Hayat (b. 1994)
- عجیب نقش بناتے ہوا گزرتی ہےکہ خد و خال مٹاتے ہوا گزرتی ہےDanish Hayat (b. 1994)
- عین ممکن ہے اذیت سے نکل آئیں گےہم ترے بعد محبت سے نکل آئیں گےDanish Hayat (b. 1994)
- فلک سے گر بلائیں آ رہی ہیںذرا ٹھہرو دعائیں آ رہی ہیںDanish Hayat (b. 1994)
- کچھ ایسے مجھے سایۂ دیوار پکارےجیسے کسی بیمار کو بیمار پکارےDanish Hayat (b. 1994)
- کس موڑ پر لے آئے ہیں یادوں کے سلسلےاب جو بھی چاہے ہم کو وہ جس سمت لے اڑےDanish Hayat (b. 1994)
- کہیں تو ہوتا نہیں ہوں ذرا برابر بھیکہیں کہیں پہ تو میں بے حساب ہوتا ہوںDanish Hayat (b. 1994)