Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. بگڑنے والا کسی دن سنور ہی جائے گامزاج دوست بالآخر سدھر ہی جائے گاSabeela Inam Siddiqui (b. 1994)
  2. پیغام زندگی ہے خوشی کی نوید ہےمیرے لیے تو آپ کا دیدار عید ہےSabeela Inam Siddiqui (b. 1994)
  3. تم دل کی دل میں رکھو بتایا نہیں کرویوں کہہ کے داستان رلایا نہیں کروSabeela Inam Siddiqui (b. 1994)
  4. خاموش ہوں میں لب پہ شکایت تو نہیں ہےفریاد کروں یہ مری عادت تو نہیں ہےSabeela Inam Siddiqui (b. 1994)
  5. رکھے ہر اک قدم پہ جو مشکل کی آگہیملتی ہے اس کو راہ سے منزل کی آگہیSabeela Inam Siddiqui (b. 1994)
  6. کبھی تو دل کا کہا دل سے وہ سنے گا ہییہ قطرہ سنگ میں سوراخ تو کرے گا ہیSabeela Inam Siddiqui (b. 1994)
  7. کس کو بتاتے کس سے چھپاتے سراغ دلچپ سادھ لی ہے زخم دکھایا نہ داغ دلSabeela Inam Siddiqui (b. 1994)
  8. وفا کے راز سے پردہ نہیں اٹھاؤں گیمیں دل کے زخم تہ دل سے ہی چھپاؤں گیSabeela Inam Siddiqui (b. 1994)
  9. وہ اس ادا سے دعا کرے گاہمارا ہو کر رہا کرے گاSabeela Inam Siddiqui (b. 1994)
  10. ہے ترجمان الم اور ادیب ہے سردیتبھی تو نوک قلم سے قریب ہے سردیSabeela Inam Siddiqui (b. 1994)
  11. اپنے اپنے ہی خول میں ہم تمکیسے خود کو چھپا کے بیٹھ گئےSabeela Inam Siddiqui (b. 1994)
  12. ایک نازک بدن اور مسلا گیااف کلی کو درندوں نے نوچا ہے یوںSabeela Inam Siddiqui (b. 1994)
  13. خوب صورت ہو اضافہزیست کے اوراق میںSabeela Inam Siddiqui (b. 1994)
  14. شعلے بھڑک رہے ہیںعناد و فساد کےSabeela Inam Siddiqui (b. 1994)
  15. مالی نےپال پوس کےSabeela Inam Siddiqui (b. 1994)
  16. مشکل ہے در پیشدل کے اندر رہتا ہےSabeela Inam Siddiqui (b. 1994)
  17. یہاں ہر طرف ہیں اداکار چہرےمیں روداد دل کی کسے کیا بتاؤںSabeela Inam Siddiqui (b. 1994)
  18. خیالات و احساسجو بے ساختہ لکھ دیے ہیںSabeela Inam Siddiqui (b. 1994)
  19. محبت اور تجارت میںیہی اک فرق باقی ہےSabeela Inam Siddiqui (b. 1994)
  20. آنکھ تو ان پڑھ ہے اور نادان ہےدل کی خواہش ایک ہی انسان ہےAamir Ata (b. 1994)
  21. اب وہ سب کچھ کر رہے ہیں دوستی کی آڑ میںغیر ممکن تھا جو شاید دشمنی کی آڑ میںAamir Ata (b. 1994)
  22. اس طرح تو لگ رہا ہے چاند بھی خطرے میں ہےاس سے مل کر میں نے جانا روشنی خطرے میں ہےAamir Ata (b. 1994)
  23. بتا تو اے چمن لایا کہاں سےتری خوشبو تو ملتی ہے فلاں سےAamir Ata (b. 1994)
  24. بنام عشق دل توڑا گیا ہےبنا کر پھر مجھے ڈھایا گیا ہےAamir Ata (b. 1994)
  25. بے حجابانہ وہ کل جب بر سر محفل گئےجتنے مرجھائے تھے چہرے ایک دم سے کھل گئےAamir Ata (b. 1994)
  26. پورے مجمع کو لاجواب کیاحسن پر اس نے جب خطاب کیاAamir Ata (b. 1994)
  27. پہلے اپنایا خار پھولوں کاتب کہیں پایا پیار پھولوں کاAamir Ata (b. 1994)
  28. خوشی کا ایک لمحہ چاہئے تھاگھڑی بھر ساتھ تیرا چاہئے تھاAamir Ata (b. 1994)
  29. سب کو اپنی طرح سمجھتی ہےیار تو بھی نہ کتنی بھولی ہےAamir Ata (b. 1994)
  30. سچ بتانا کہ میرے بن جاناںکیسے کٹتے ہیں تیرے دن جاناںAamir Ata (b. 1994)
  31. عشق میں اب خون پانی کیجیےنذر وحشت یہ جوانی کیجیےAamir Ata (b. 1994)
  32. عمر گزری ہے تری گلیوں کے چکر کاٹ کرکیوں نہ لکھوں خود کو مجنوں میں سخنور کاٹ کرAamir Ata (b. 1994)
  33. کسی طرح تو اسے مار دوں جو باہر ہےوہ شخص کیسے مرے گا جو میرے اندر ہےAamir Ata (b. 1994)
  34. کسی کے ہجر کے سائے میں آ کھڑا ہوں میںعجیب دکھ ہے مرا چھاؤں میں جلا ہوں میںAamir Ata (b. 1994)
  35. نیچی نظر کشادہ جبیں درمیانہ قدگیسو دراز شیریں زباں حسن مستندAamir Ata (b. 1994)
  36. ہم تو روتے ہیں رونا خواہش کاوہ مزہ لے رہے ہیں بارش کاAamir Ata (b. 1994)
  37. یاد بھی اس کی خواب کی سی ہےایک لڑکی حجاب کی سی ہےAamir Ata (b. 1994)
  38. آنکھوں سے لگا لو مری اندازۂ وحشتتم کھول نہیں پاؤ گے دروازۂ وحشتDanish Hayat (b. 1994)
  39. اس کا لہجہ دیکھ رہا تھا بارش ہونے والی تھیبس اک میں ہی خشک پڑا تھا باقی تو ہریالی تھیDanish Hayat (b. 1994)
  40. ایک حسرت ہی رہی صبح کے آغاز کے ساتھوہ مجھے روز پکارے نئے انداز کے ساتھDanish Hayat (b. 1994)
  41. ترا چہرا اگر اترا ہوا ہےیہاں پر کچھ ہے جو اوچھا ہوا ہےDanish Hayat (b. 1994)
  42. خواب دکھائے جائیں گے تعبیر بنائی جائے گینقش سمیٹے جائیں گے تصویر بنائی جائے گیDanish Hayat (b. 1994)
  43. دیے کی آخری خواہش کا احترام کروتمام شہر جلانے کا اہتمام کروDanish Hayat (b. 1994)
  44. سوال کرتی ہوئی رات کے علاوہ ہےکہ مجھ میں کوئی مری ذات کے علاوہ ہےDanish Hayat (b. 1994)
  45. عجیب نقش بناتے ہوا گزرتی ہےکہ خد و خال مٹاتے ہوا گزرتی ہےDanish Hayat (b. 1994)
  46. عین ممکن ہے اذیت سے نکل آئیں گےہم ترے بعد محبت سے نکل آئیں گےDanish Hayat (b. 1994)
  47. فلک سے گر بلائیں آ رہی ہیںذرا ٹھہرو دعائیں آ رہی ہیںDanish Hayat (b. 1994)
  48. کچھ ایسے مجھے سایۂ دیوار پکارےجیسے کسی بیمار کو بیمار پکارےDanish Hayat (b. 1994)
  49. کس موڑ پر لے آئے ہیں یادوں کے سلسلےاب جو بھی چاہے ہم کو وہ جس سمت لے اڑےDanish Hayat (b. 1994)
  50. کہیں تو ہوتا نہیں ہوں ذرا برابر بھیکہیں کہیں پہ تو میں بے حساب ہوتا ہوںDanish Hayat (b. 1994)