وہ حسن آنکھ سے دیکھا ہوا یقین مجھے

Danish Hayat (b. 1994)

وہ حسن آنکھ سے دیکھا ہوا یقین مجھے

اگرچہ روز بتاتے تھے زائرین مجھے

میں آپ اپنا تماشہ تماش گاہوں میں

تماشا گر کیوں سمجھتا تماشبین مجھے

ہر ایک کو میں پرکھتا تھا دل کی آنکھوں سے

بہت قریب دکھاتی تھی دوربین مجھے

میں آستین میں پلتے ہوؤں کو جانتا ہوں

سو دشمنوں میں سمجھ لیں منافقین مجھے

میں رات ان کی طرح خاک چھانتا رہا ہوں

سو دشت زاد سمجھتے رہے مکین مجھے

میں منکشف ہی نہیں ہو رہا تھا خود ان پر

بغور پڑھتے رہے تھے کئی ذہین مجھے